پاکستان کی چمن سرحد پر مشتعل مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپم يں 3 افراد ہلاک

پاکستان کی سرحد چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم سے کم تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

مہر خـبررساں ایجنسی نے ڈان کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کی سرحد چمن میں فرینڈشپ گیٹ بارڈر کراسنگ پر مشتعل مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں ایک خاتون سمیت کم سے کم تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ اس موقع پرپاکستان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

اطلاعات کے مطابق جمعرات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے اکٹھے ہوکر سرحد عبور کرنے کے ارادے سے فرینڈشپ گیٹ پر دھرنا دیا۔

فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے اہلکاروں نے انہیں گیٹ سے ہٹ جانے کو کہا تاہم انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

ایف سی حکام نے انہیں بتایا کہ مظاہرین کی جائے وقوع سے منتقلی تک گیٹ نہیں کھولا جائے گا۔

 ذرائع کے مطابق  خواتین اور بچوں سمیت افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی افغانستان میں داخل ہونے کے لئے وہاں جمع ہوگئی تاہم جب سرحدی عہدیداروں نے گیٹ نہیں کھولا تو مظاہرین مشتعل ہوگئے اور فرینڈشپ گیٹ پر واقع ایف سی اور دیگر سرکاری اداروں کے دفاتر پر حملہ کیا اور ایف سی اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگا دی۔

ایف سی اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولیاں چلائیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرحد کے دونوں اطراف سے مزید لوگ احتجاج میں شامل ہوگئے۔

دریں اثنا ، عہدیداروں نے بتایا کہ کچھ فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں اور ایک ہجوم نے سرحد کے قریب کنٹینروں میں قائم 300 کمروں کے قرنطینہ مرکز پر حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھیڑ میں موجود کچھ شرپسندوں نے صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا اور کچھ گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، ہنگامے میں، تین افراد ہلاک اور 20 دیگر زخمی ہوئے۔

بعد ازاں مظاہرین چمن شہر کی جانب گئے جہاں انہوں نے زبردستی تمام بازار اور شاپنگ مال بند کرادیے اور سڑکیں بند کردیں۔

News Code 1901960

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 2 =