بھارت میں مسلمان تاجر نے اپنے دفتر کو اسپتال میں تبدیل کردیا

بھارت میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے تاجر قادر شیخ نے سرکاری اسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث اپنے دفتر کو 85 بستروں پر مشتمل اسپتال میں تبدیل کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے تاجر قادر شیخ نے سرکاری اسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث اپنے دفتر کو 85 بستروں پر مشتمل اسپتال میں تبدیل کردیا۔ 

اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسلم تاجر قادر شیخ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد ایک پرائیوٹ اسپتال میں 20 دن تک زیر علاج رہنے کے بعد شفایاب ہوگئے لیکن اسپتال کا بل دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہیں احساس ہوا کہ سرکاری اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے اور غریب مریض نجی اسپتالوں کے بل ادا نہیں کر سکتے جس پر مسلمان تاجر نے اپنے دفتر کو ہی کو اسپتال بنادیا۔

بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں پراپرٹی کا بزنس کرنے والے قادر شیخ نے اپنے 30 ہزار مربع فٹ پر پھیلے دفتر میں 85 بستروں، ڈاکٹرز اور طبی عملے کا انتظام کیا ہے جب کہ یہاں کورونا کے علاج کی مفت سہولیات حکومت کی جانب سے ادا کیے جاتے ہیں تاہم بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی بلز قادر شیخ اپنے جیب سے بھرتے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور 35 ہزار سے زائد افراد اس مہلک وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ بھارت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔

News Code 1901924

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 3 =