ایران اور چین کے درمیان اقتصادی معاہدے سے امریکی پابندیاں ناکام ہوجائیں گی

اقتصادی ماہرین کے مطابق ایران اور چین کے درمیان 400 ارب ڈالرزکے معاہدے کے نتیجے میں ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیاں ناکام ہوجائیں گی ، چین اور ایران کے درمیان معاہدے کو خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی تاریخي شکست قراردیا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی ماہرین کے مطابق ایران اور چین کے درمیان 400 ارب ڈالرزکے معاہدے کے نتیجے میں ایران کے خلاف امریکی اقتصادی پابندیاں ناکام ہوجائیں گی ، چین اور ایران کے درمیان معاہدے کو خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی تاریخي شکست قراردیا جارہا ہے۔

ایران اور چین کے درمیان اتنے بڑے معاہدے میں تجارت، معیشت، سیاست ، ثقافت اور سلامتی کے شعبہ جات شامل ہیں جن کی مالیت 400؍ ارب ڈالرز ہے۔ چین کی توجہ ایران کے زمینی راستوں پر ہے جن سے وہ اپنی ضروریات کا تیل حاصل کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف برسوں سے جاری امریکی اقتصادی پابندیاں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں ۔ امریکہ ایران کو پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حصول سے روکنے میں بھی بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ ایران نے مشترکہ ایٹمی معاہدے کے ذریعہ  پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے معاملے میں عالمی برادری کی ہر قسم کی تشویش کو دور کردیا ہے۔

امریکہ کی اس ناکام حکمت عملی اور پالیسی کے نتیجہ میں صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ نہ صرف امریکہ اپنے مقصد میں ناکام ہوگیا ہے بلکہ اس نے دیگر ممالک  کو بھی ایران کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور کر دیا ہے۔ 

بھارت نے امریکی پابندیوں کو بہانہ بنا کر چابہار معادے میں تاخيری حربے استعمال کرنے کی کوشش کی ایران  اور چین کے جب معاہدے کی بات سامنے آئي تو اس وقت بھارت نے پھر آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن  بھارتی کوشش میں کافی دیر ہوچکی تھی۔ اکثر ممالک امریکہ کو بہانہ بنا کر ایران کا قرضہ ایران کو واپس  کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں لیکن چین اور ایران کے درمیان ہونے والے اقتصادی معاہدے کے بعد خطے میں ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں گی ، اس معاہدے کی آواز نے ہی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نیندیں اڑا دی ہے۔

News Code 1901807

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =