آگ لگنے کے حالیہ واقعات کا سائبر حملوں سے کوئی تعلق نہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے خلاف بعض حکومتوں کے سائبر حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ لگنے کے حالیہ واقعات کا سائیبر حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں  ایران کے خلاف بعض حکومتوں کے سائبر حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ لگنے کے حالیہ واقعات کا سائیبر حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف روزانہ ہزاروں سائبر حملے کئے جاتے ہیں جنھیں ایران کا دفاعی سسٹم ناکارہ اور ناکام بنادیتا ہے۔ سید عباس موسوی نے کہا کہ گذشتہ چندہ مہینوں بڑے سائبر حملے کئے گئے ہیں جنھیں ایرانی ماہرین نے ناکام بنادیا ہے اور ایران کے خلاف اس قسم کے حملے معمول کی بات ہے لیکن ان حملوں کا آگ لگنے کے حالہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید عباس موسوی نے کہا فنی شعبہ کی تحقیقات کے مطابق دشمن ان حملوں ميں اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف سائبر حملوں کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے ، امریکہ عالمی سطح پر سنگین جرائم کا ارتکاب کررہا ہے اور عالمی برادری کو امریکہ کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ایران کے خلاف سائبر حملوں کا حکم دے رکھا ہے لہذا ایران کے خلاف ہونے والے ہر سائبر حملے کے پیچھے یقینی طور پرامریکہ کا ہاتھ ہے۔

News Code 1901791

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 8 =