امریکہ، سنگين حادثات کا شکار/ مغربی ذرائع ابلاغ کی عالمی واقعات کے بارے میں متضاد اور دوگانہ رفتار

امریکہ میں گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل سنگین حادثات رونما ہورہے ہیں امریکی بحری جنگی جہاز میں آگ لگنے کے بعد اب تک آگ لگنے کے پانچ واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں امریکہ کی فولاد اور کیمیائی فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل حادثات رونما ہورہے ہیں امریکی بحری جنگی جہاز میں آگ لگنے کے بعد اب تک آگ لگنے کے پانچ واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں انڈیانا اور جارجیا میں  امریکہ کی فولاد اور کیمیائی فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

امریکہ میں آگ لگنے کے واقعات کو مشکوک قراردیا جارہا ہے آگ لگنے کے علل و اسباب کے بارے میں ابھی تک کوئی دقیق اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔۔ امریکہ اور آسٹریلیا میں ہر سال ہزاروں ہیکٹر جنگلات آگ کی نذر ہوجاتے ہیں اس قسم کے واقعات دنیا میں ہر جگہ رونما ہوسکتے ہیں ، کشتیاں دلدل میں پھنس سکتی ہیں اور ٹرینوں کا آپس میں تصادم ہوسکتا ہے۔ لیکن ایران میں جب اس قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو مغربی ذرائع ابلاغ اس واقعہ کو ایسا حادثہ بنا کر پیش کرنےکی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے عوام کو اس واقعہ کے بارے میں کوئی اطلاع ہی نہیں یا عوام کو اس سے بے خبر رکھا جارہا ہے۔

لیکن جب اس قسم کا واقعہ امریکہ میں رونما ہوتا ہے تو پھرعبارتیں اس طرح کی پیش کی جاتی ہیں کہ " ہمیں علت کا ابھی علم نہیں " یا " ہم ابھی تحقیق کررہے ہیں" یا " ہم بعد میں جواب دیں گے" ۔

گذشتہ ہفتہ امریکہ کے بحری جنگی جہاز " یو ایس ایس یونہوم رچرڈ " میں آگ لگنے کا سلسلہ 4 دن تک مسلسل جاری رہا ، آگ بجھانے کی کوششوں کا ذکر ہوتا رہا ، لیکن اس کے علل و اسباب کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ اصل بحث یہ نہیں کہ یہ دعوی درست ہے یا غلط بلکہ سوال یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اس واقعہ کے علل و اسباب کی تلاش اس طرح کیوں نہیں کرتے جس طرح وہ چین ، روس یا ایران میں رونما ہونے والے واقعات کے علل و اسباب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکی بحریہ کے لئے مزید بجٹ کا مطالبہ بھی آگ لگنے کی اصل وجہ ہوسکتا ہے کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے نمائندے امریکی بحریہ کا بجٹ بڑھانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

اسی ہفتہ امریکہ کی ریاستوں انڈیانا اور جارجیا میں فولاد اور کیمیائی فیکٹریاں آگ لگنے سے  راکھ کا ڈھیر بن گئي ہیں ان کے پیچھے بھی کوئی علت اور وجہ ہوسکتی ہے لیکن مغربی ذرائع ابلاغ امریکہ میں رونما ہونے والے واقعات کا اصل سبب اور علت جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ ان کی توجہ صرف چین، روس اور ایران میں رونما ہونے والے واقعات کے علل و اسباب معلوم کرنے پر مبذول ہوتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی رفتار عالمی واقعات کے بارے میں متضاد اور دوگانہ ہے۔

News Code 1901681

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha