ایران نے مشکل حالات میں ہمیشہ افغان قوم کا بھر پور ساتھ دیا / امن و سلامتی سب کے لئے اہم ہے

ایران نے افغانستان پر سویت یونین کے تسلط کے خاتمہ اور دیگر مشکل شرائط میں ہمیشہ افغان قوم کا بھر پور تعاون کیا اور ساتھ دیا، ایران نے تقریبا 4 ملین کے قریب افغان مہاجرین کو پناہ دیکر افغان قوم کی حمایت کا عملی ثبوت بھی پیش کیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق ایران نے افغانستان پر سویت یونین کے تسلط کے خاتمہ  اور دیگر مشکل شرائط میں ہمیشہ افغان قوم کا بھر پور تعاون کیا اور ان کا ساتھ دیا ہے ایران نے 4 ملین افغان مہاجرین کو پناہ دیکر افغان قوم کی حمایت کا عملی ثبوت پیش کیا۔ افغانستان میں قائم موجودہ حکومت کے ساتھ بھی ایران کا قریبی تعاون جاری ہے ۔ ایران افغانستان اور خطے کی موجودہ مشکلات کا اصلی سبب خطے میں موجود امریکی فوج کو سمجھتا ہے۔ سیاسی مبصرین اس بات سے متفق ہیں کہ امریکی فوج نے جہاں بھی قدم رکھا ، اس نے وہاں جنگ و جدال اور خونریزی کا بازار گرم کیا اور بڑی بے رحمی کے ساتھ انسانوں کا قتل عام کیا۔ ایران کی علاقائی اور عالمی سطح پر مستقل پالیسی امریکہ کو پسند نہیں امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایران بھی دیگر ممالک کی طرح امریکی احکامات کو تسلیم کرے لیکن ایران اپنی مستقل پالیسی کے دائرے میں علاقائی اور عالمی سطح پر اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات قائم کئے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ،  ایران اور افغانستان کے درمیان  اچھے اور خوشگوار تعلقات کا خواہاں نہیں اس لئے وہ ایران اور افغانستان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی متعدد کوششیں کرچکا ہے۔ مزار شریف میں ایرانی سفارتکاروں کا قتل عام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کے ہمسایہ ممالک ایران کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات قائم کریں لیکن افغانستان کے سیاستداں ، سماجی اور اقتصادی حلقے اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ امریکہ کو چھوڑ سکتے ہیں لیکن ایران کو نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ایران ان کا ہمسایہ ملک ہے جس نے مشکلات میں ہمیشہ اپنے افغان بھائیوں کا بھر پور ساتھ دیا ہے اور مدد کی۔ ایران کے وزیر خارجہ کے سیاسی معاون جناب سید عباس عراقچی کا افغانستان کا دورہ بھی اسی حقیقت کا مظہر ہے کہ ایران اور افغانستان کے تعلقات برادرانہ ، دوستانہ ، اسلامی اور دینی اصولوں پر استوار ہیں جنھیں دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ ایرانی حکام افغانستان میں امن و سلامتی کو ایران کی امن و سلامتی سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکام افغانستان میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کی بھر پور حمایت کرتے ہیں ۔

سید عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، افغان حکومت کی قیادت میں امن عمل کی حمایت کرتے ہوئے تمام سیاسی گروہوں کی شرکت سے افغان انٹرا ڈائیلاگ کے جلد از جلد انعقاد کیلئے پُرامید ہے۔

عراقچی نے افغان عوام کی کوششوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور افغانستان میں آئین اور جمہوریت کے قیام کے تحفظ پر زوردیتے ہوئےکہا کہ ایران افغانستان میں امن عمل کے سلسلے میں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

سید عباس عراقچي نے کہا کہ افغانستان کی ترقی اور پیشرفت در حقیقت ایران کی ترقی اور پیشرفت ہے اور پیشرفت امن و صلح کے سائے میں حاصل ہوتی ہے لہذآ افغانستان کی پیشرفت کے لئے افغانستان میں امن کا قیام اہمیت کا حامل ہے دنیا کو آج امن کی ضرورت ہےلہذاکسی ایک ملک میں بدامنی دیگر ممالک میں امن و ثبات کا سبب نہیں بن سکتی۔ لہذا امن کے قیام کے سلسلے میں باہمی اتحاد اور تلاش و کوشش ضروری ہے۔

News Code 1901631

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 6 =