روس نے ایک  گاؤں کو مکمل طور پر قرنطینہ کردیا

روسی حکام نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے سائیبریا کے قریب واقع ایک گاؤں کو مکمل طور پر قرنطینہ کرکے رہائشیوں کو آئسولیٹ کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روسی حکام نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے سائیبریا کے قریب واقع ایک  گاؤں کو مکمل طور پر قرنطینہ کرکے رہائشیوں کو آئسولیٹ کردیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ  کورونا وائرس کی وبا ایک تہوار کے ذریعے پھیلی ہے جسے شامان کہا جاتا ہے اور تہوار کے موقع پر غیر ارضی مخلوقات کی پوجا کی جاتی ہے۔

حکام کا ماننا ہے کہ مذکورہ گاؤں کے لوگ اس تہوار کو زیادہ مناتے ہیں جس کےباعث گاوں کے رہائشی کورونا کا شکار ہوگئے۔

10 جون کو شامان کی رسم ایک ایسی خاتون کے گھر میں منعقد ہوئی جو خود کورونا سے متاثر تھیں اور اس میں اطراف کے گاؤں کے بہت سے لوگ موجود تھے، مذکورہ تہوار کے بعد  گاؤں میں متعدد کیسز رپورٹ ہونے لگے۔

متاثرہ گاوں کی کل آبادی 300 افراد پر مشتمل ہے اور روسی حکام نے تمام 300 رہائشیوں کو  گاؤں میں قرنطینہ کرکے گاوں کے باہر خندق کھود دی ہے۔

واضح رہے کہ روس میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 7 لاکھ 20 ہزار 547 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 11 ہزار 205 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

News Code 1901593

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 0 =