خاشقجی کے قتل کے اصل ملزم سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان ہیں

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ترکی میں سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے اصل ملزم سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹرآگنس کیلامارڈ  نے ترک خبررساں ایجنسی آناتولی کے ساتھ گفتگو میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے اصل ملزم سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان ہیں۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے کہا کہ سعودی صحافی کو ترکی میں سعودی عرب کے استنبول میں واقع  قونصلخانہ میں قتل کیا گيا اور یہ مجرمانہ  قتل ترکی میں رونما ہوا ہے لہذا ترک عدالت اور ترکی کے وکلاء اس کیس کی سماعت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، ترکی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کیس کا پیچھا کرے۔

اگنس کیلامارڈ نے ترکی کے پراسیکیوٹر کی جانب سے سعودی عرب کے 20 فراری ملزموں کی گرفتاری کے حکم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ان ملزموں کو ترکی کے حوالے نہیں کرےگا ۔ البتہ ترک عدالت کا اقدام اہم اورقانونی  ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے کہا کہ اس کیس کے اصل ملزم سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان ہیں اور وہ جلدی سے عدالت میں پیش نہیں ہوں گے کیونکہ اسے بعض بڑی حکومتوں کی حمایت اور پشتپناہی حاصل ہے لیکن صبر و تحمل کے ساتھ آخر ایک دن وہ بھی قانون کے شکنجے میں آجائیں گے۔ واضح رہے کہ خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصلخانہ میں سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر2 اکتوبر سن 2018 میں بڑی بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا اور اس کی لاش کو سعودی عرب نے ابھی تک خاشقجی کے لواحقین کے حوالے نہیں کیا ۔

News Code 1901525

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 3 =