امریکی سپریم کورٹ کا الیکٹرول کالج کے نمائندگان کے بارے میں اہم فیصلہ

امریکی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا ہے کہ الیکٹرول کالج کے نمائندگان کو ریاست کے ووٹرز کی پسند کا ہر صورت خیال رکھنا ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا ہے کہ الیکٹرول کالج کے نمائندگان کو ریاست کے ووٹرز کی پسند کا ہر صورت خیال رکھنا ہوگا۔ یہ دعوی مسترد کردیا گیا ہے کہ الیکٹرز کو آئینی حق حاصل ہے کہ وہ ریاست کی مرضی کے برخلاف اپنی پسند کے صدارتی امیدوار کو چن لیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب براہ راست عوام کےووٹوں سے نہیں ہوتا بلکہ ریاست کے الیکٹرز صدر کو منتخب کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ یہ الیکٹر جس ریاست کی نمائندگی کر رہے ہوں تو ریاست انہیں پابند کرسکتی ہے کہ اسی امیدوار کو چنیں جسے ریاست کے عوام نے پاپولر ووٹ دیئے ہوں۔

جسٹس ایلینا کیگن نے کہا کہ الیکٹرز آزاد ایجنٹ نہیں، الیکٹرز کو اسی امیدوار کو ووٹ ڈالنا ہوگا جسے ریاست کی عوام نے چنا ہو، جج نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل ٹو اور بارہویں ترمیم ریاست کو الیکٹرز کےمقابلے میں وسیع تر اختیارات دیتی ہےجبکہ الیکٹرز کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

امریکہ میں الیکٹرول کالج کے نظام کو دقیانوسی، غیرمنصفانہ اورغیر جمہوری قرار دے کر اسکا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے، پچھلے 5 صدارتی انتخابات میں سے دو میں صدرارتی الیکشن جیتنے والی شخصیات امریکہ بھر میں عوام کی جانب سے حاصل ووٹوں میں دوسرے نمبر پر تھےتاہم صرف اس لیے الیکشن جیت گئے کیونکہ وہ ایسی ریاستوں سے جیتنے میں کامیاب ہوگئے تھے جو زیادہ الیکٹرول ووٹوں کی حامل ہیں۔

پچھلے برس امریکا کے ٹنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے الیکشن حکام کو اس وقت حیران کردیا تھا جب رولنگ دی گئی۔

News Code 1901428

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 10 =