امریکی حملے میں جنرل سلیمانی  کابہیمانہ قتل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی خصوصی مبصرنے اعلان کیا ہے کہ عراق میں شہید قاسم سلیمانی اوردیگر 9 افراد پرامریکی ڈرون حملہ انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے اسرائیل کے حمودیہ اخبار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی خصوصی مبصراگنس کیلامیرڈ نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں شہید قاسم سلیمانی اوردیگر 9 افراد پرامریکی ڈرون حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی ۔ اس نے کہا کہ امریکہ نے بغداد ايئر پورٹ سے نکلنے کے بعد شہید قاسم سلیمانی اور اس کے قافلہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں شہید قاسم سلیمانی اور دیگر 9 افراد شہید ہوگئے۔ اس سلسلے میں امریکہ اپنی توجیہات  کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انسانی حقوق میں اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر کا کہنا ہے کہ امریکہ جنرل سلیمانی کو عنقریب خطرہ ثابت کرنے اور حتی امریکی مفادات کے لئے ان کے خطرہ ہونے کے بارے میں شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ امریکہ کا بغداد ایئر پورٹ پرحملہ  انسانی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور امریکہ کو اس حملے کے بارے میں جوابدہ ہونا چاہیے۔

کیلا میرڈ نے رائٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا حساس دور سے گزر رہی ہے سکیورٹی کونسل نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور عالمی برادری نے بھی مجبوری کی بنا پر سکوت اختیار کررکھا ہے۔

واضح رہے کہ  اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر اس سلسلے میں اپنی رپورٹ سکیورٹی کونسل میں پیش کرےگی۔

News Code 1901415

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 13 =