اسرائیلی بربریت کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح مزاحمت واحد آپشن ہے

اردن کی پارلیمنٹ کے نمائندے طارق خوری نے مہر نیوز کے ساتھ گفتگو میں اسرائیلی بربریت کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح مزاحمت کو واحد آپشن قرار دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں اردن کی پارلیمنٹ کے نمائندے طارق خوری  نےاسرائیلی بربریت اور تسلط پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح مزاحمت کو واحد آپشن قرار دیا ہے۔ اردن کی پارلیمنٹ کے نمائندے نے مغربی پٹی کو مقبوضہ فلسطین سے الحاق کرنے کے اسرائیلی منصوبہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ  اسرائیلی وزير اعظم نیتن یاہو کے اس منصوبہ کے خلاف خود اسرائیل کے اندر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے جغرافیائی نقشہ تبدیل کرنے کی وجہ سے اردن کو سب سے زيادہ خطرات لاحق ہیں۔

اردن کی پارلیمنٹ کے نمائندے طارق خوری نے مغربی پٹی کے اسرائیل کے ساتھ الحاق اور اس کے اثرات کے بارے میں مہر نیوز کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اردن کا مؤقف اس کے بارے میں واضح ہے اردن اسرائیل کے اس اقدام کے سراسر خلاف ہے اور اس کی مذمت کرتا ہے۔ اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم ایک ہفتہ قبل اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو اس سلسلے میں خـبردار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ اردن اسرائیل کے اس منصوبہ کے خلاف ہے۔

طارق خوری نے کہا کہ اسرائیل کے اس خطرناک منصوبہ کے نتیجے میں فلسطینی ملک کی تشکیل کا خاتمہ ہوجائےگا اور عرب حکمرانوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ صلح پر مبنی مذاکرات نے صورتحال کو آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے پر کمر بستہ ہوگیا ہے ۔ طارق خوری نے کہا کہ اسرائیل کی منہ زوری اور تسلط پسندانہ پالیسی کو روکنے کے لئے اس کے خلاف مسلح مزاحمت ہی واحد آپشن  اور واحد راستہ ہے کیونکہ اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

News Code 1901301

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 5 =