اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا  اسرائیل سے فلسطین کے مغربی کنارے کو ضم نہ کرنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ اور عرب لیگ نے اسرائیل سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فلسطین الیوم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ  نے اسرائیل سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا گیا جس میں متعدد حکومتی وزرا نے شرکت کی تھی۔

یہ آخری بین الاقوامی ملاقات تھی جس کے بعد اسرائیل یکم جولائی کو اپنے منصوبے پر عمل درآمد کردے گا۔

اس سے قبل 25 ممالک کے ایک ہزار سے زائد یورپی قانون سازوں نے بھی اپنے حکمرانوں کو مداخلت کرنے اور اسرائیلی منصوبہ روکنے کا کہا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرس نے بھی کانفرنس کے دوران کہا کہ ’میں اسرائیلی حکومت سے  مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں کو انضمام کرنے کے منصوبے کو ترک کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں‘۔

اس موقع پر عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا کہ انضمام سےمستقبل میں امن کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے حصے کو ضم کرنے کے ممکنہ اقدام پر اگر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ  بن جائےگا ۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی۔

اس سے قبل فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو فلسطین مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے تمام مغربی کنارے اور غزہ پر ریاست کا اعلان کردے گا۔

News Code 1901150

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 4 =