سعودی عرب کاکورونا وائرس کے باوجود لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

سعودی عرب کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سعودی حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں کمی کے آثار نہ ہونے کے باوجود اتوار سے تمام کاروباری سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کااعلان کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے واس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سعودی حکومت نے  کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ میں کمی کے آثار نہ ہونے کے باوجود اتوار سے تمام کاروباری سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کااعلان کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تین ماہ لاک ڈاؤن کے بعد اتوار کی صبح ملک گیر سطح پر نافذ کرفیو اور کاروباری سرگرمیوں پر عائد پابندیاں ختم کردیے جائیں گے۔اتوار کی صبح 6 بجے کرفیو ختم ہوگا تاہم عمرے، بین الاقوامی سفر اور پچاس سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی برقرار رہے گی۔

 حکومت نے کورونا وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مارچ کے مہینے میں سخت اقدامات کیے تھے جن کے تحت کئی علاقوں اور شہروں میں کرفیو کا نفاذ بھی شامل تھا۔ مئی میں سعودی حکومت نے سفر اور نقل و حمل پر عائد پابندیوں کے تین مراحل میں خاتمے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

 واضح رہے کہ 28 مئی سے لاک ڈاؤن میں کی جانے والی نرمی کے بعد سے سعودی عرب میں وائرس کے کیسز میں اضافہ  ہوا ہے اور کورونا کے متاثرین کی تعداد 1 لاکھ 54 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 12سو 30 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ خلیج فارس تعاون کونسل میں شامل ممالک میں سعودی عرب سب سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا ملک ہے ۔ باخبر ذرائع کے مطابق سعودی عرب کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے اعداد و شمار کو بھی چھپا رہا ہے۔ ادھر ملائؤیا اور انڈونیشیا نے اس سال حج کا پروگرام منسوخ کردیا ہے دیگر اسلامی ممالک کیص ورتحال بھی کچھی ایسی ہی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب کو بہت زيادہ مالی نقصانہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب نے کئي لاکھ غیر ملکیوں کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

News Code 1901042

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 10 =