اتر پردیش کی حکومت نے گائے کو ذبح کرنے پر 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ مقرر کردیا

بھارتی ریاست اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے گائے کے ذبیحے کے خلاف آرڈیننس 2020ء جاری کر دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے گائے کے ذبیحے کے خلاف آرڈیننس 2020ء جاری کر دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ  عائد کیا جاسکتا ہے ۔

اطلاعات  کے مطابق بھارتی ریاست اتر پر دیش کی حکومت کی جانب سے گاؤ ماتا کے ذبیحہ کے خلاف قانون سازی کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، اتر پردیش کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ آرڈیننس گاؤ ماتا کے ذبیحے کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اتر پردیش حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈیننس کے مطابق آرڈیننس 2020ء کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ مقرر کیا گیا ہے ۔

بھارتی ذرائع کے مطابق آرڈیننس کی پہلی بار خلاف ورزی کرنے پر 5 سے 7 سال قید اور 1 سے 3 لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ دوسری بار خلاف ورزی کرنے پر 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ مقرر کیا گیا ہے ۔

آرڈیننس کے مطابق اگر گائے یا اس کا گوشت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تو گاڑی کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف نئے آرڈیننس 2020ء کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق منتقلی کے دوران بر آمد کی گئی گاؤ ماتا کی دیکھ بھال اور اس پر آنے والا خرچہ ایک سال کی مدت تک  گاڑی کے مالک سے وصول کیا جائے گا۔

News Code 1900817

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 8 + 9 =