ہزاروں پاکستانی بحری جہازوں میں محصور

کورونا وائرس کے سبب سات ہزار سے زائد پاکستانی قومی اور بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں میں محصور ہوگئے ہیں ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ  کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ کورونا وائرس  کے سبب سات ہزار سے زائد پاکستانی قومی اور بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں میں محصور ہوگئے ہیں ۔ یہ پاکستانی ان جہازوں ميں ملازمت کرتے ہیں اور انہی جہازوں ميں محصور ہوکر رہ گئے

اس حوالے سے سنگا پور میں قائم بین الاقوامی شپ مینجمنٹ کمپنی کے سربراہ عبداللطیف صدیقی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت پچاس ہزار سے زائد بحری جہاز عالمی تجارت میں مصروف عمل ہیں جس میں دس لاکھ سے زائد افراد ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ساٹھ سے پینسٹھ ہزار پاکستانی بھی بطور سی فیررز خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم اس وقت تقریبا سات ہزار پاکستانی دنیا بھر میں چلنے والے بحری جہازوں میں محصور ہوکر رہ چکے ہیں۔

لطیف صدیقی نے کہا کہ عام طو پر سی مین چھ ماہ سے ایک سال کے معاہدے پر کسی بھی جہاز پر خدمات انجام دینے جاتے ہیں تاہم اب کورونا کی وبا کے سبب ہزاروں پاکستانی ایسے ہیں جو اپنے معاہدے ختم ہونے کے بعد وطن واپس آنا چاہتے ہیں تاہم پاکستان آنے کے لیے فلائٹس دستیاب نہیں ہیں اور یہ پاکستانی جہازوں پر نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں پاکستانی اپنے وطن جانے کے منتظر ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان سات ہزار ہم وطنوں کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

News Code 1900789

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =