جارج بش، کولن پاول اور مٹ رومنی کا ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ

امریکہ کے سابق صدر جارج بش، سابق وزیر خارجہ کولن پاول اور سینیٹر مٹ رومنی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ کے سابق صدر جارج بش، سابق وزیر خارجہ کولن پاول اور سینیٹر مٹ رومنی نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی مظاہرین سے طاقت کے ذریعہ  نمٹنے کا طریقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گلے پڑگیا ہے، ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ افراد نے دوبارہ صدارت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کردیا۔

سابق صدر جارج بش، سابق وزیر خارجہ کولن پاول اور سینیٹر مٹ رومنی بھی ٹرمپ کیخلاف ڈٹ گئے، نسل پرستی کیخلاف مظاہرے میں بھی مٹ رومنی شریک ہوئے۔

سابق صدر جارج بش نے واضح کیا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ ان کے بھائی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی تذبذب  کا شکار ہوگئے ہیں۔

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ کولن پاول نے صدر ٹرمپ کو پکا جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بار ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کو ووٹ دیں گے، پاول نے جان مک کین کی جگہ باراک اوبامہ کو ووٹ دیا تھا۔

بش اور پاول دونوں ہی صدر ٹرمپ کے اقدامات سے نالاں ہیں، صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واشنگٹن میں فوج بلائی تھی اور مظاہرین کو کچلنےاور پیچھے دھکیلنے کے لیے طاقت کا بے جا استعمال کیا تھا۔ ری پبلکن صدارتی امیدوار بننے کے سابق خواہش مند مٹ رومنی نے بھی دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے حامی نہیں، مٹ رومنی واحد ری پبلکن سینیٹر ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں بھی ووٹ دیا تھا۔

News Code 1900764

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 3 =