امام خمینی (رہ)  تحول، انقلاب اور تبدیلی کے امام ہیں/ امریکی حکام اپنی رفتار کے ذریعہ رسوا ہوگئے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی اکتیسویں برسی کے موقع پر اپنے براہ راست خطاب میں حضرت امام خمینی (رہ) کے اندر تبدیلی کے جذبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امام خمینی (رہ) درحقیقت تحول، انقلاب اور تبدیلی کے امام ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی اکتیسویں برسی کے موقع پر اپنے براہ راست خطاب میں حضرت امام خمینی (رہ) کے اندر تبدیلی کے جذبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  امام خمینی (رہ)  درحقیقت تحول، انقلاب اور تبدیلی کے امام ہیں۔ ۔ امام خمینی (رہ) کے اندر تبدیلی کا جذبہ اسلامی تحریک سے شروع نہیں ہوا بلکہ ان کے اندر یہ جذبہ پہلے سے موجود تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کی اکتیسویں برسی کے مختلف انداز میں انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: اصل مسئلہ حضرت امام خمینی (رہ) کے ساتھ گفتگو کا مسئلہ ہے حضرت امام خمینی (رہ) ارتحال کے سالہا گزرنے کے بعد آج بھی ان کی تعلیمات ہمارے درمیان زندہ اور موجود ہیں اور ہم ان کے معنوی حضور سے فیضیاب ہورہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کو " امام انقلاب ، تحول اور تبدیلی " قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام (رہ) نے اپنی جد وجہد کے اغاز سے لیکر اپنی مبارک زندگی کے آخری لمحات تک میدان عمل میں ایک بہترین اور بے مثال کمانڈر کا نقش ایفا کیا اور وہ ایرانی قوم کے بحر بیکراں کی اپنے طوفانی اور موّاج اہداف کی جانب رہبری کے بہترین فرائض انجام دیتے رہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے انقلابی جذبہ کے سائے میں تبدیلیوں کی تشریح اور ایرانی قوم کی سرافکندگی اور تسلیم کے نظریہ کو جذبہ حریت میں تبدیل کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) نے ایران کی غیر متحرک اور ذاتی و شخصی زندگی پر توجہ رکھنے والی قوم کو حریت پسند قوم میں تبدیل کرکے میدان عمل میں لاکر کھڑا کردیا اور حضرت امام خمینی (رہ) کی اس خصوصیت کا سلسلہ سن 1341 ہجری شمسی اور اس کے بعد 15 خرداد سن 1342 ہجری شمسی سے لیکر انقلاب اسلامی کی کامیابی اور ان کی زندگی کے آخری لمحات تک نمایاں ، مشہود اور جاری و ساری رہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں قوم اورحتی پہلوی دور کے پست حکام کے عدم اعتماد کی طرف اشارہ کیا اور قوم میں انقلاب ،  تبدیلی اور خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرنے کو امام خمینی (رہ) کے انقلابی جذبہ اور تحول کا دوسرا نکتہ بیان کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: انقلاب اسلامی کی تاریخ کے ابتدائی دور میں مستقبل کا کوئی افق اور نقشہ موجود نہیں تھا لیکن حضرت امام خمینی (رہ) نے اپنی انقلابی جذبہ کے تحت اسے مستقبل کے روشن اور تابنک افق میں تبدیل کردیا اور اسے اسلام کے نئے تمدن کی تشکیل میں بدل دیا۔

رہبر معظم نے فرمایا: ایک اور تبدیلی جو بہت سی دیگر تبدیلیوں سے زیادہ اہم ہے وہ سپر طاقتوں کی جانب نگاہ ہے۔ ایسا تصور بھی نہیں تھا کہ کوئی امریکی ارادوں کے برخلاف ارادہ کرے، فکر کرے اور  قدم بڑھائے۔ امام خمینی (رہ) نے ایسا کام کیا کہ خود امریکی عہدیداروں نے یہ کہا کہ یہ ہماری تحقیر اور بے عزتی کررہے ہیں۔ حضرت  امام خمینی (رہ) نے ہمیں سبق دیا کہ ان سپر طاقتوں پر وار کیا جاسکتا ہے، انکو شکست دی جاسکتی ہے، اور یہ دیکھنے میں بھی آیا۔ سویت یونین کا حشر کیا ہوا، آج امریکہ کہاں کھڑا ہے ان سب کو ملاحظہ کریں۔ حضرت امام خمینی (رہ) نے یہ باتیں اس وقت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی تھیں کہ جب انکا تصور بھی نہیں تھا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: آج جو کچھ امریکی شہروں میں نظر آرہا ہے ایک ایسی حقیقت کا ظاہر ہونا ہے جو ہمیشہ چھپائی گئی ہے۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ایک پولیس والا جو بڑے آرام اور اطمینان کے اپنا گھٹنا ایک سیاہ فام کی گردن پر رکھ دیتا ہے اور اتنا دباتا ہے کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، سیاہ فام التماس کرتا ہے مدد طلب کرتا ہے، کچھ دوسرے پولیس والے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن کوئی اس کی مدد نہیں کرتا ، کوئی  کسی قسم کا اقدام نہیں کرتا، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے یہ امریکی فطرت ہے۔ یہ وہی کام ہے جو امریکا پوری دنیا کے ساتھ کرتا چلا آرہا ہے، امریکہ نے افغانستان، عراق اور شام کے ساتھ یہی کام کیا، اس سے قبل امریکہ نے  ویتنام اور کئی دیگر ملکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ یہ امریکی اخلاق ہے یہ امریکی تہذیب و تمدن ہے، یہ وہاں کی حکومت کی فطرت ہے جس نے آج اس طرح خود کو ظاہر کیا۔ یہ جو لوگ کہہ رہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں کہ ہمیں سانس لینے دو، ہم سانس نہیں لے پا رہے، یہ جو آج امریکی عوام کا نعرہ ہے جو مختلف شہروں میں لگایا جارہا ہے، یہ در حقیقت ان قوموں کے دلوں کی آواز ہے کہ جہاں امریکیوں نے اپنے ظلم  وستم اور جبر و تشدد کو روا رکھا۔

News Code 1900655

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 17 =