حضرت امام خمینی (رہ) نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی  اور عملی تصویر پیش کی

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرنس کے اعلی رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی نے امام خمینی ؒ کی اکتیسویں برسی کی مناسبت سے مہر نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت امام امام خمینیؒ نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی اور عملی تصویر پیش کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرنس کے اعلی رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی نے امام خمینی ؒ کے سانحہ  ارتحال کی  اکتیسویں برسی کی مناسبت سے حضرت امام خمینی ؒ  کی شخصیت کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے  امام خمینی کو قرآنی اور اسلامی تعلیمات کا مجسم نمونہ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ امام خمینیؒ نے دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی  اور عملی تصویر پیش کی  اور اسلام    کے سیاسی نظام کو متعارف کروایا اور اس اندازِ فکر  پر کاری ضرب لگائی جس کی رو سے سیاست اور دین کو ایک دوسرے سے جدا تصور کیا جاتا ہے اور دونوں ایک دوسرے سے بالکل متضاد قراردیا جاتا ہے۔

مہرنیوز: آپ کے انتہائی مشکور ہیں جو آپ نے اس انٹرویو کے لئے اپنا قیمتی وقت دیا  ، بابِ گفتگو کو کھولنے سے پہلے اگر آپ کچھ تمہیدی کلمات  ادا کرنا چاہتے ہیں تو پیش فرمائیں :

سربراہ انجمن شرعی شیعیان آغا سید حسن الموسوی الصفوی : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا  ہوں کہ آپ نے مجھے ایک مرتبہ پھر اپنے قارئین سے مخاطب ہونے کا موقع عنایت کیا ، جہاں تک امام خمینی ؒ کی غیر معمولی اور منفرد شخصیت کا  تعلق ہے اس کے بارے میں لب کشائی بہت مشکل اور سخت مرحلہ ہے چونکہ امام ؒ کی شخصیت ایک جامع اور ہمہ پہلو شخصیت ہے ، آپ کے علمی اور عرفانی ، سیاسی اور اخلاقی  مقام  پر اب تک بہت کچھ لکھا اور کہا جاچکا ہے لیکن امام خمینی ؒ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ آپ کی علمی اور عرفانی شخصیت کا مکمل احاطہ بہت مشکل ہے ۔ انجمن شرعی شیعیان  نسلِ نو کو امام ؒ کی شخصیت سے روشنا س کرانے کے لئے   آپ کی وفات حسرت آیات کی برسی کے موقع پر ہربرس  مختلف پروگرام منعقد کرتی  آئی ہے ، اس سلسلہ کا مرکزی پروگرام جو سیمینار کی شکل میں ہربرس با قاعدگی  سے منعقد ہوتا رہا ہے قابل ِ ذکر ہے ، یہ پروگرام کشمیر یونیورسٹی کے کنونشن ہال ، سنتور ہوٹل اور دیگر مقامات پر منعقد ہوتا رہا ہے جس میں کشمیر اور بیرون کشمیر کی ممتازشخصیات شرکت کرتی رہی ہیں جن میں  نمائندہ ولی فقیہ  مسلسل شرکت فرماتے رہے ہیں ، ان کے علاوہ ایران کے دیگر مہمان بھی شریک  ہوتے رہے ہیں ، گزشتہ برس یہ کانفرنس سرینگر کے مشہور ومعروف  ہوٹل  سنتور  میں منعقد ہوئی  جو  دو روزپر محیط تھی ، پہلے دن مقررین اور مہمان حضرات نے اپنی تقاریر کے ذریعہ سامعین کو محظوظ کیا ، گزشتہ برس ایران سے  چھ افراد پر مشتل  وفد اس پروگرام کی رونق تھا جس میں اسلامی مذاہب یونیورسٹی کے وائس چانسلر آیۃ اللہ مختاری ، اسلامک اسٹراٹیجیک سینٹر قم کے ڈاکٹر راہدار، آستان قدس رضوی  اور فردوسی یونیورسٹی مشہد کے نمائندہ بھی شامل تھے ۔ اس کانفرنس کے پہلے دن مقررین نے امام خمینی ؒ کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور دوسرے دن ممتاز اسکالروں اور طلباء وطالبات نے منتخب مقالات پیش کئے جنہیں حاضرین نے بہت پسند کیا ۔ کورونا وائرس کی عالمی وباء  کی وجہ سے ہم اس برس اس توفیق سے محروم ہیں اور کوئی اجتماعی پروگرام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اور انجمن کے ذاکرین، کارکنان اور ذیلی کمیٹیاں اس  موقع پر سوشل میڈیا کے ذریعہ اجتماعی  قرآن خوانی ، مجالس عزا وغیرہ کا اہتمام ضرور کریں گے ۔ دنیا کی مظلوم ومحکوم قومیں  ، دنیا کی کچلی ہوئی  اور ستم دیدہ اقوام  کو امام خمینی ؒ نے ہی عزم وحوصلہ  کی راہ دکھائی اور انہیں عالمی سامراج کو للکارنے کا ولولہ عطا کیا  ، کشمیری عوام کی حمایت  امام خمینیؒ اور اسلامی انقلاب کے راہنما اصول  اور لائحہ عمل کا جزولاینفک رہی ہے لہذا ہم امام خمینیؒ کی ذات اور ان کے بتائے ہوئے راستہ کو ہرگز فراموش نہیں کرسکتے  اور ان کی یاد  اور ہدف کو ہمیشہ  اپنے سینے سے لگائے رکھیں گے ۔

مہر نیوز: آپ کو امام خمینیؒ کی شخصیت میں کون سی نمایاں خصوصیت نظر آتی ہیں جو آپ کو دیگر علماء سے ممتاز بناتی ہیں  ؟

آغا سید حسن : حضرت امامؒ کے بارے میں بس یہی کہہ سکتا ہوں " آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری "  اگر چہ ہماری تاریخ بزرگ علماء، فقہاء، عرفاء  ، ذوالفنون  شخصیات سے بھری پڑی ہے جو ہمارے مفاخر شمار ہوتے ہیں  ، جن پر ہمیں بجا طور پر فخر ہے لیکن امام خمینی ؒ جیسی جامع شخصیت  ہمیں تاریخ میں شاید ہی مل پائے ، جو ایک فقیہ ، اصولی ، فیلسوف ، عارف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مدبر ، مفکر اور سیاستدان بھی ہو ۔ امام خمینی ؒ کی اگر کسی ایک خصوصیت کو جلی حروف میں لکھا جائے تو میری نظر میں وہ صفت آپ کی بے مثال شجاعت ہے ۔ امام خمینی ؒ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے ،امامؒ کی یہ صفت ان کو دیگر تمام علماء سے ممتاز بناتی ہے " اگر ہم دنیائے معاصر میں کوئی ایسی شخصیت تلاش کرنا چاہیں جو سورہ احزاب کی اس آیت کی جیتی جاگتی تفسیر  ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے " اَلَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسٰالاٰتِ اَللّٰهِ وَ يَخْشَوْنَهُ وَ لاٰ يَخْشَوْنَ أَحَداً إِلاَّ اَللّٰهَ وَ كَفىٰ بِاللّٰهِ حَسِيباً" تو ہماری نگاہ میں امام خمینی ؒ  مجسم ہوجاتے ہیں جنہوں نے الٰہی پیغام کو بلا خوف وخطر دنیا تک پہنچایا ، ظالم اور ڈکٹیٹر شہنشاہیت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ، دنیا کی تمام سامراجی طاقتوں کو بیک وقت للکارا ، لاشرقیہ ولا غربیہ اسلامیہ اسلامیہ کا نعرہ بلند کیا حالانکہ اس وقت  دنیا کی کوئی حکومت بیک وقت امریکہ اور سوویت یونین کے خلاف محاذ کھولنے کی جرات نہیں کرسکتی تھی ، سلمان رشدی  مرتد کے خلاف واضح فتویٰ دیا ، گوربا چوف کو توحید کی دعوت دی اور کمیونزم کے خاتمہ کے بارے  میں وارننگ  دی ۔ امت  مسلمہ کے اتحاد کے لئے بے پناہ کوششیں کیں، ہفتہ وحدت کا اعلان کیا، عالمی یوم ِ قدس کا اعلان کرکے فسلطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ، امام خمینیؒ کی سراسر زندگی جہاد کا عملی نمونہ ہے ، آپ نے جو کہا اس پر سختی سے عمل  کیا ، آپ کے قول وفعل میں مکمل یکسانیت ، خدا پر مکمل بھروسہ اور ایمان یہ  وہ خصوصیات ہیں جو امام ؒ کو دیگر معاصرین سے ممتاز بناتی ہیں ۔ خدا نخواستہ ہماری گفتگو سے یہ غلط تاثر پیدا نہ ہو کہ  دیگر علمائے اعلام اور مراجع ان خصوصیات سے عاری تھے ایسا ہرگز نہیں ہے  ان میں بھی یہ خصوصیات موجود تھیں لیکن امام خمینی ؒ   میں دیگر علماء کے مقابلہ میں یہ خصوصیات زیادہ نمایاں ہیں ۔

مہر نیوز: امام خمینیؒ کی سیاسی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں لگ بھگ ہر کوئی جانتا ہے ان کی نجی اور گھریلو زندگی کے بارہ میں کچھ روشنی ڈالیں :

آغا سید حسن الموسوی الصفوی : دنیا کےسیاسی رہنماؤں اورقائدین کے بارہ میں عام تاثر یہی ہے اور یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ وہ اپنی سیاسی اور اجتماعی مصروفیات کی وجہ سے اپنی گھریلو ذمہ داریوں سے غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں ، بیوی بچوں کا خیال نہیں رکھ پاتے لیکن امام خمینیؒ اس میدان میں بھی دوسروں سے بازی مار لیتے ہیں ، آپ اپنے گھر کی تمام ضروریات ، بچوں کی تربیت  اور ان کا خیال خود رکھتے تھے جس سے آپ کی شخصیت کی جامعیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس سلسلہ میں مرحوم آغا سید احمد اور امام خمینیؒ کی بیٹی کے جو انٹرویوز مختلف جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئے ہیں ان کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے

مہر نیوز: اسلامی انقلاب کی کامیابی میں امام خمینی ؒ کے کردار کے بارے میں  مختصر طور پر روشنی ڈالیں:

آغا سید حسن : اسلامی انقلاب کی کامیابی میں امام خمینی ؒ کے کردار کے بارے میں کوئی دورائے نہیں ہے ، آپ کی حکیمانہ قیادت نے اس انقلاب کو مختلف خطرات سے محفوظ رکھا اور اس انقلاب کو اپنی اصلی ڈگر سے منحرف نہیں ہونے دیا ، ورنہ  یہ انقلاب  بھی اپنے راستے سے منحرف ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکا ہوتا لیکن آپ نے اس انقلاب کا سانچہ اس قدر مضبوط اور عمیق ڈیزائن کیا کہ آج بیالیس برس کے بعد  یہ ننھا سا پودا جسے بیالیس برس پہلے لگایا گیا تھا آج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کرچکا ہے جو دفاعی لحاظ سے بہت مضبوط ہے ، دشمنوں نے گزشتہ چالیس برس میں ہر حربہ آزما کردیکھ لیا لیکن اسے ہمیشہ ہزیمت اٹھانا پڑی ، داخلی انتشار اور بیرونی جنگ ، معاشی اور اقتصادی ناکہ بندی  الغرض ہر حربہ آزما کر دیکھ لیا لیکن اسے ہر محاذ پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا چونکہ اس نظام کی بنیاد " ولایت فقیہ " پر ہے جسے زمانہ کی کوئی تند باد نہیں ہلا سکتی اسی وجہ سے امام ؒ نے یہ مشہور ومعروف جملہ ارشاد فرمایا تھا " پشتیبان ولایت فقیہ باشید تا بہ مملکتان  آسیبی نرسد " ولایت فقیہ کے حامی اور ناصر رہو تاکہ تمہارے ملک کو کوئی گزند نہ پہنچے "آج دشمنوں کو اس حقیقت کا اچھی طرح علم ہے اسی وجہ سے وہ ولایت فقیہ اور رہبرانقلاب اسلامی کے خلاف آئے دن مختلف شوشے چھوڑتے رہتے ہیں تا کہ نسلِ جوان کو اسلامی انقلاب اور اس کی بنیادی اقدار سے دور کرسکیں ۔ بہر حال امام کی حکیمانہ اور صالح قیادت نے اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔۔ اس انقلاب کی کامیابی میں سب سے موثر کردار حضرت امام خمینی کی عظیم شخصیت اور ان کی الہی قیادت کا تھا۔ آپ کی قیادت و رہبری نے ایرانی عوام کے قلوب و اذہان کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔اسلامی انقلاب سے پہلے، انقلاب کے دوران، انقلاب کی کامیابی کے بعد اور صدام کےخلاف آٹھ سالہ جنگ میں عوام نے جس طرح امام خمینی (رہ) کا ساتھ دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ امام خمینی عارف باللہ، مفکر، مجتہد اور الہی سیاسی نظام کے نئے تقاضوں کے مطابق دنیا میں نافذ کرنے والی نابغہ روزگار شخصیت تھیں، بہر حال ایرانی قوم کی اپنے قائد کے تئیں وفاداری اور اطاعت کے عنصر کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا جس کی وجہ سے گزشتہ چالیس سال سے یہ انقلاب ہر مشکل کے مقابلہ سینہ سپر ہونے کے قابل بنا ہے اور آج بھی اس کا پرچم پوری آب وتاب سے لہرا رہا ہے ۔

مہر نیوز: ایران کے اسلامی انقلاب  کی کامیابی کے بعد اسلامی دنیا میں بیداری کی لہر کے آغاز پر کچھ روشنی ڈالیں اور اس بات کی وضاحت کریں کہ یہ انقلاب دیگر اقوام عالم کے لئے کیسے مشعلِ راہ ہے ؟

انجمن شرعی شیعیان کشمیر کے سربراہ آغا سید حسن : آپ کے اس سوال کے جواب سے پہلے میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلامی انقلاب ایران ایک اسلامی انقلاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انسانی انقلاب بھی ہے ۔ جہاں یہ دنیا کی تمام محکوم ومظلوم ، ستم دیدہ اور کچلی قوموں کے لئے پیغام کا حامل  انقلاب ہے وہیں اسلامی دنیا اورمسلمانوں کے لئے بھی مشعل راہ ہے ۔ ایران کا  اسلامی انقلاب    اگر چہ مخصوص  جغرافیائی حدود میں برپا ہو لیکن یہ ایک فکری انقلاب ہے اور فکر کسی سرحد اور ملک کی پابند نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ اس کا پیغام بہت جلد دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گیا اور ہرجگہ سامراج مخالف تحریکیں شروع ہوگئیں ، جہاں کسی زمانہ میں امریکہ مردہ باد، سوویت یونین مردہ باد ، برطانیہ مردہ باد کے نعرے ایک سنگین جرم سمجھے جاتے تھے وہاں یہ نعرے کھلےعام سنائی دینے لگے ، ایران کے اسلامی انقلاب نے مظلوموں اور کچلی قوموں میں سامراج کے خلاف  عزم اور حوصلہ  پیدا کیا اور انہیں زبان عطا کی ، ایرانی انقلاب کی کامیابی سے اقوام عالم کو اپنی طاقت کا صحیح اندازہ ہوا کہ اگر عوام میں اتحاد ہو اور وہ کسی بھی طاقت کے خلاف  متحد ہو کر ڈت جائیں تو وہ دنیا کی کسی بھی طاقت سے ٹکر لےسکتے ہیں ، یہی وہ پیغام ہے جو سامراج کی ایران کے اسلامی انقلاب  سے دشمنی کی بنیادی وجہ ہے جس کی اس انقلاب نے بھاری قیمت ادا کی ہے اور آج بھی ادا کررہا ہے ۔ ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے عالمی سامراج ایران اور خطہ کے دیگر ممالک  جو تیل کی دولت سے مالا مال تھے بلا روک ٹوک ان کی اس دولت کی لوٹ کھسوٹ کررہا تھا  وہ  ایران کی اس دولت سے محروم ہوگیا ، ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے اس کی راتوں کی نیند حرام کردی ، ایرانی غیور قوم  کی دولت سے اس کے ہاتھ کوتاہ ہو گئے ۔ خطہ کے دیگر اسلامی ممالک میں بھی بیداری کی ایک لہر پیدا ہوگئی اور ہر جگہ  امریکہ واسرائیل اور ان کی پٹھو حکومتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہونا شروع ہوئی جسے دبانے کی بہت کوشش کی گئی ۔ ایران کے اسلامی انقلاب نے تمام اسلامی ممالک پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے انڈونیشیا۔ ملائشیا۔ ہند وپاکستان ، افغانستان ۔ ہندوستان ، مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک ، سنٹرل ایشیا کی اسلامی ریاستیں الغرض اسلامی انقلاب نے  ان کی بیداری میں اپنا کردار ادا کیا ، اس انقلاب کی کامیابی کے بعد  کافی عرصہ سے خطہ کے عرب حکمرانوں کے خلاف   صدائے احتجاج بلند ہورہی تھی جو بالآخر رنگ لائی  اور خطہ کے بہت سے ڈکٹیٹر تاریخ کا حصہ بن گئے،  اس  تحریک کو  جو خالصتاً ایک اسلامی تحریک تھی بہار ِ عربی کا رنگ دیا گیا ۔ صالح قیادت کے فقدان کی وجہ سے یہ تحریکیں اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچ سکیں اور عالمی سامراج کے ہاتھوں یرغمال ہو گئیں ۔ اسلامی ممالک پر اگر ہم ایران کے اسلامی انقلاب  کا اثر دیکھنا چاہتے ہیں توہم اسے لبنان ، عراق ،پاکستان ، بحرین ، نائجیریا ، سنٹرل ایشیا کی ریاستوں میں  بخوبی دیکھ سکتے ہیں ، ایرانی انقلاب نے لبنانی عوام اور حزب اللہ کو نیا عزم وولولہ عطا کیا جس کی وجہ سے وہ اسرائیل جیسے  خونخوار سے نبرد آزمانے ہونے میں کامیاب ہوئے اور جنوبی لبنان کو اس خبیث حکومت کے ناجائز قبضہ سے چھڑانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس انقلاب نے فلسطین کی تحریکِ مزاحمت میں  نئی روح پھونک دی  جس کی وجہ سے وہ  غاصب اسرائیلی حکومت کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کرنے پر کامیاب  ہوئی ہے ۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے کشمیر کی تحریک آزادی بھی متاثر ہوئی، اس کی بنیادی وجہ اس سرزمین کا ایران سے  وہ  تاریخی اور ثقافتی رشتہ ہے جو صدیوں پر محیط ہے ، اگر آپ تحریک آزادی کشمیر کا انقلاب کی کامیابی  سے پہلے اور بعد کے حالات  کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو اس میں واضح  فرق نظر آئے گا ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس تحریک  میں مزید شدت پیدا ہوئی ہے ، بہر حال عالم ِاسلام پر  اسلامی انقلاب کی کامیابی کے گہرے نقوش سے انکار نہیں کیا جاسکتا  ، اپنے عوام کی اسلامی بیداری کو دیکھتے ہوئے کچھ ممالک نے نام نہاد اسلامی حکومت کا ڈھونگ رچایا البتہ یہ ماڈل کامیاب نہیں ہوسکا اور عوام کو بہت جلد ان کی اصلیت کا پتہ چل گیا اس سلسلہ میں پاکستانی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق اور بنگلا دیش کے جنرل  ارشاد کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ کچھ ممالک اپنے ساتھ  جمہوریہ اسلامی استعمال کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ روئے زمین پر اسلامی جمہوریہ ایران کے سوا کوئی حکومت ایسی نہیں ہے جو حقیقی معنیٰ میں جمہوری بھی ہو اور اسلامی بھی ہو ، یہ طرہ امتیاز صرف اسلامی جمہوریہ ایران کو حاصل ہے جہاں حقیقی معنیٰ میں جمہوریت بھی ہے اور اسلامیت بھی ہے ۔ پروردگارعالم رہبرانقلاب  اور دیگر مراجع عظام ، علمائے کرام کاسایہ ہمارے سروں پر محفوظ رکھے اور تمام عالم انسانیت بالخصوص  مومنین کرام جہاں  کہیں بھی ہیں انہیں اس موجودہ وبا  سے  اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین

News Code 1900641

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =