حضرت امام خمینی (رہ) نےمظلوم قوموں کو ظالم طاقتوں سے مقابلہ کرنے کی قوت اور حوصلہ عطاکیا

ہندوستان کے ممتاز عالم دین اور ریاست اتر پردیش کے ضلع جونپور میں واقع حوزہ علمیہ قرۃ العین کے مؤسس اور سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا احتشام عباس زیدی نے مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا کی کچلی ہوئی مظلوم قوموں کو ظالموں و عالمی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کی قوت اور حوصلہ عطاکیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق ہندوستان کے ممتاز عالم دین اور ریاست اتر پردیش کے ضلع جونپور میں واقع حوزہ علمیہ قرۃ العین کے مؤسس اور سرپرست حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا احتشام عباس زیدی نے مہر نیوز کے ساتھ گفتگو میں حضرت امام خمینی (رہ) اور اسلامی انقلاب کے خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا کی کچلی ہوئی مظلوم قوموں کو ظالموں و عالمی طاقتوں سے مقابلہ کرنے کی قوت اور حوصلہ عطاکیا۔

مہر نیوز: کیا دنیا بھرمیں حضرت امام خمینی (رہ) اوراسلامی انقلاب کے خطوط اور اثرات کے بارے میں آپ کیا کیا خیال ہے کیا انقلاب اسلامی اور حضرت امام خمینی نے دنیا کی مظلوم قوموں کو سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کا عزم و حوصلہ عطا کیا ہے؟

حجۃ الاسلام احتشام عباس: آج سے چودہ سو بیالیس سال پہلے جزیرہ نما ئے عرب میں ایک عظیم انقلاب رونما ہوا جس نے دنیا کو عظیم انسانی تعلیم سے نوازا اور بشریت کو جہالت وضلالت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم واخلاق وشرافت ومحبت کے روح نواز صفات سے آشنا کیا۔

  حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توحید الہی کے اس روح پرور پیغام نے انسانوں کو نہ صرف خود پرستی سے دور کیا بلکہ خداپرستی کے ذریعہ انہیں انسانیت کے اعلی نقوش سےبھی آشنا کیا۔اخوت وبرادری کے ساتھ منظم سماج کی تشکیل کے ذریعہ تہذیب کے اعلیٰ نقوش پرمبنی ایک ایسی حکومت کی بنیاد ڈالی جس نے چند برسوں میں انسانوں کی عظیم آبادیوں کو اپنا گرویدہ بنا دیا۔

اسلامی حکومت کے جونقوش آنحضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  نے ترسیم کیے تھے آپ کی بظاھر زود ہنگام رحلت کے بعد بھی اتنے پایدار تھےکہ مسلمان صدیوں تک ان سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ اگر اسلامی قیادت مناسب ہاتھوں میں رہتی تو آج تک پوری دنیا میں اسلامی نظام قائم ہوجاتا۔

صدیاں گزر گئیں،مسلمانوں میں وہ تہذیبی نقوش توکسی حدتک باقی رہےلیکن اسلام کے دیرینہ دشمنوں یہودیوں اور عیسائیوں نےطرز جہاں بانی مسلمانوں سے چھین لیا اور دین وسیاست میں جدائی کا تصور ان میں رائج کردیا اور خود برسوں مسلمانوں کی دولت لوٹتے رہے۔

بیسویں صدی مسلمانوں کے لیے تجدیدِ اسلام کی صدی ہے۔اس صدی میں امام خمینی رضوان اللہ علیہ جیسی عظیم  شخصیت نےایک بار پھر توحیدی واسلامی حکومت کے نقوش نظام ولایت فقیہ کی شکل میں ابھارے۔اس نظریہ کو اتفاق سے عملی شکل دینے کاموقع بھی فراہم ہو گیا اور ایران میں  ایک ایسا اسلامی جمہوری نظام وجود میں آیا جس نے اسلام کی عملی قوت وطاقت کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا۔کل کی اسلام مخالف طاقتیں آج بھی اس نظام کے مقابل صف آرا ہوگئیں لیکن وہ گزشتہ بیالیس برسوں سے اس آہنی دیوار سے ٹکرا کر خود کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔

ایران کے اسلامی انقلاب نے دنیا کی کچلی ہوی قوموں کو ظالموں و عالمی طاقتوں سے مقابلہ کی قوت عطا کر دی اور انہیں اپنے حق کے لیے لڑنے کا حوصلہ دیا۔

حضرت امام خمینی (رہ) نے اسلامی سرزمین پراسرائیل نامی کینسر کی نابودی کے لئے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم قدس کا نام دےکر مسلمانوں کے دلوں میں قبلہ اول کی بازیابی کی تڑپ پیدا کردی۔

آج اسلامی انقلاب ان کے عظیم  شاگرد حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت میں اپنی درخشاں منزل کی طرف گامزن ہے اور انشا اللہ نیو ورلڈ آرڈر کی نابودی کے ساتھ عالمی اسلامی انقلاب کی شکل میں حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کی  حکومت سے متصل ہوگا۔

News Code 1900600

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 8 =