وہابی دہشت گردوں نے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے مزار کو منہدم کردیا

شام کے صوبہ ادلب میں سعودی عرب سے منسلک وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے شرپسندوں نے خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کے مزارات کی بے حرمتی کرتے ہوئے منہدم کردیا ہے جس پر سنی اور شیعہ علماء نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے صوبہ ادلب میں سعودی عرب سے منسلک وہابی دہشت گرد تنظیم داعش کے شرپسندوں نے خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کے مزارات کی بے حرمتی کرتے ہوئے انھیں شہید کردیا ہے جس پر سنی اور شیعہ علماء نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب سے منسلک وہابی شرپسند عناصر کے ہاتھوں عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بےحرمتی پرعلمائے کرام نے  شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان جمعیت علماء اسلام ف کے  سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پارٹی رہنماؤں مولانا امجد خان، مولانا فضل حقانی، حافظ حسین ، مولانا راشد محمود سومرو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دل ہلا دینے والے واقعے سے عالم اسلام کے دل و دماغ لرز اٹھے ہیں، اندوہناک واقعے پر امت مسلمہ کے دل رنجیدہ اور خون کے آنسو رو رہے ہیں، واقعے پر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی خاموش سوالیہ نشان ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ اسلامی دنیا اور او آئی سی تنظیم فوری  ایکشن لیکر خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی اصل حالت میں بحالی یقینی بنائے ، پاکستان علماء کونسل کے قائدین نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ کو وہابی تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کیخلاف متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔ مہر نیوز کے مطابق مسلمان علماء کو چاہیے کہ جس طرح وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کو دوبارہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اسی طرح انھیں جنت البقیع کو بھی دوبارہ تعمیر کرنے اور اسے اپنی اصل حالت میں واپس لانے کا سعودی عرب سے مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ عمر بن عبدالعزیز ایک تابعی ہیں لیکن جنت البقیع میں تو آل سعود حکومت نے پیغمبر اسلام (ص) کے جگر گوشوں ، ازواج مطہرات اور اصحاب کے روضوں کو شہید کیا ہے۔ مسلمان علماء کو 8 شوال سن 1344 ہجری شمسی میں آل سعود کے ہاتھوں جنت البقیع کی شہادت کے بارے میں بھی اپنی ذمہ د اریوں پر عمل کرنا چاہیے اور سعودی عرب کے اس غیر اسلامی، غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام کی بھر پور مذمت کرنی چاہیے۔

News Code 1900577

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 8 =