چین اور بھارت کے درمیان لداخ میں فوجی جھڑپ مکمل جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے

چین اور بھارت کے درمیان لداخ کے تنازع پر جاری جھڑپ کے حوالے سے مبصرین نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان لداخ جھڑپ کے بعد مکمل جنگ کا خدشہ ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چین اور بھارت کے درمیان لداخ کے تنازع پر جاری جھڑپ کے حوالے سے مبصرین نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان لداخ جھڑپ کے بعد مکمل جنگ کا خدشہ ہے۔  ذرائع کے مطابق حال ہی میں بھارتی فوجی کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹ پر جاری کردہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان گھونسوں سے لڑائی ہوئی جبکہ ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

یہ واقعہ ایک دن تک جاری رہا جس میں دونوں ملکوں کے 11؍ فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ تین دن بعد لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے 1200؍ کلومیٹر دور مشرق کی طرف نتھو لا پاس کے قریب اور بھارتی ریاست سکم میں بھارتی اور چینی افواج کے درمیان لڑائی ہوئی، بھارتی افواج نے چینی فوج کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی جس پر یہ لڑائی شروع ہوئی۔

اگرچہ دونوں ملکوں کی طرف سے معاملے کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن اس واقعے کے ایک ہفتے بعد بھی معاملہ گرم ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے پر سرحدی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ چینی فوج نے بھارتی سرحدوں میں داخل ہو کر اپنا فوجی ساز و سامان منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

نئی دہلی میں قائم دفاعی ادارے سے تعلق رکھنے والے مبصر اجئے شکلا کہتے ہیں کہ صورتحال میں مزید گرما گرمی کے نتیجے میں مکمل جنگ چھڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں چینی فوجی بھارتی حدود میں موجود ہیں۔ جس کی وجہ سے جنگ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

News Code 1900562

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 10 =