کورونا وائرس کم ہونے والے ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہوسکتی ہے

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہورہی ہے اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہوجائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وہ ممالک جہاں کورونا وائرس کی وبا میں کمی واقع ہورہی ہے اگر وہ اس وبا کو روکنے کے اقدامات سے بہت جلد دستبردار ہوجائیں گے تو پھر انہیں وبا کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے سربراہ ڈاکٹر مائیک ریان نے ایک آن لائن بریفنگ میں بتایا کہ بہت سارے ممالک میں کیسز کم ہورہے ہیں تو وسطی اور جنوبی امریکہ، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری اکثر لہروں کی صورت میں آتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کورونا وائرس اس سال کے آخر میں ان جگہوں پر واپس آسکتا ہے جہاں پہلی لہر ختم ہورہی ہے۔

ڈاکٹر مائیک ریان نے مزید کہا کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ اگر پہلی لہر کو روکنے کے اقدامات ختم کردیے گئے تو وائرس کی شرح میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہم دوسری لہر کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس سے ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ پہلی وبائی لہر از خود جنم لیتی ہے جبکہ دوسری لہر چند مہینوں کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن ہمیں اس حقیقت سے بھی واقف رہنا چاہیے کہ یہ بیماری کسی بھی وقت بڑھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر مائیک ریان نے مزید کہا کہ ہم یہ قیاس نہیں کر سکتے کہ اب مرض ختم ہورہا ہے اور یہ مسلسل ختم ہی ہوتا جائے گا۔

News Code 1900456

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 7 =