امریکہ کا بھارت میں مسلمانوں کی گرفتار پر تشویش کا اظہار

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارتی حکومت کی طرف سے متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارتی حکومت کی طرف سے  متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کوویڈ 19 بحران کے دوران مسلم کارکنوں کو گرفتار کررہی ہے،جنھوں نے متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)  کے خلاف احتجاج کیا۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ " اس وقت ، بھارت کو ضمیر کے قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے  اور احتجاج کے جمہوری حق پر عمل کرنے والوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔" اس میں خاص طور پر حاملہ کارکن صفورا زرگر کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا جو سی اے اے کے متعلق فروری میں دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں گرفتار ہوئی تھی۔

27 سالہ زرگر کو10 اپریل کو گرفتار کیا گیا، اس پر غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ ، 2019 ء (یو اے پی اے) کے تحت الزام عائدکیاگیا، گرفتاری کے وقت وہ تین ماہ کی حاملہ تھی۔زرگر دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں ریسرچ فیلو اور جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی (جے سی سی) کی میڈیا کوآرڈینیٹر تھی، جس نے حکومت کے ذریعہ گذشتہ سال دسمبر میں منظور کیے گئے شہریت کے قانون کے خلاف ہفتوں کے احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔

 اس رپورٹ میں خاص طور پر نئے شہریت کے قانون کے نفاذ پر تنقید کی گئی ، جو پڑوسی مسلم اکثریتی ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر مسلموں کیلئے شہریت حاصل کرنے کے لیے راہ آسان بناتا ہے۔ سی اے اے کی منظوری کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف ملک بھرمیں ہونے والے کئی ہفتوں کے پر تشدد مظاہروں میں78 افراد ہلاک ہوگئے تھے،جن میں بڑی تعداد میں مسالمان مارے گئے تھے۔

News Code 1900215

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 2 =