سعودی عرب کے ولیعہد نے سابق سعودی بادشاہ کے بیٹے کو گرفتار کرکے جیل میں ڈالدیا

انسانی حقوق کی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے موجودہ باشداہ کے بیٹے ولیعہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں سابق بادشاہ شاہ عبداللہ کے بیٹے شہزادہ فیصل بن عبداللہ کو حراست میں لے کر قید کر لیا ہے اور ان کے کسی بھی قسم کے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کے موجودہ باشداہ کے بیٹے ولیعہد محمد بن سلمان  نے حال ہی میں سابق بادشاہ شاہ عبداللہ کے بیٹے شہزادہ فیصل بن عبداللہ کو حراست میں لے کر قید کر لیا ہے اور ان کے کسی بھی قسم کے رابطہ کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ شہزاد فیصل بن عبداللہ کو ماضی میں کرپشن کے خلاف مہم کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر 2017 میں رہا کردیا گیا تھا۔

امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے شاہی خاندان سے رابطہ رکھنے والے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے  کہ سابق بادشاہ عبداللہ کے صاحبزادے شہزادہ فیصل بن عبداللہ کو سکیورٹی فورسز نے 27 مارچ کو حراست میں لیا تھا۔

شہزادہ نائف کو 2017 میں ولی عہد کے عہدے کے لیے محمد بن سلمان کے حق میں دستبردار ہونے کا کہا گیا تھا اور انہیں نظر بند کردیا گیا تھا۔

شاہی خاندان سے قریبی روابط کے حامل ذرائع نے بتایا کہ اس اقدام کا مقصد ان تمام افراد کو شاہی السعود خاندان کے تابع بنانا ہے تاکہ اگر بادشاہ کی موت ہو تو محمد بن سلمان کے بادشاہ بننے کی راہ میں یہ کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا شہزادہ فیصل کو بھی مارچ کے اوائل میں کی گئی گرفتاریوں کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے جہاں اس اقدام کے نتیجے میں احمد کے بیٹے نائف اور محمد بن نائف کے بھائی نواف کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

سعودی عرب پر حکمراں امریکہ نواز آل سعود خاندان میں اقتدار کے سلسلے میں شدید اختلافات پائۓ جاتے ہیں اور اس سلسلے میں موجود بادشاہ کے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان اپنے باپ کی مسند پر بیٹھنے کے لئے اپنے تمام حریفوں کا قلع و قمع کرنے میں مصرورف ہیں۔

News Code 1900061

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 8 =