حزب اللہ کے خلاف جرمنی کی پابندیوں کا پہلے سے امکان تھا

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ لبنان کے خلاف جرمنی کی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جرمنی کی پابندیوں کا پہلے سے امکان تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ لبنان کے خلاف جرمنی کی پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جرمنی کی پابندیوں کا پہلے سے امکان تھا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ کو دہشت گردی کی فہرست میں قراردینے کے جرمنی کے  اقدام کو سیاسی اور اسرائیلی دباؤ میں قراردیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے اس اقدام کا پہلے سے امکان تھا اور اس کی پیشنگوئی کی جارہی تھی اور بعض دیگر یورپی ممالک سے بھی اسی قسم  کے اقدام کی توقع کی جاتی ہے کیونکہ یورپی ممالک آشکارا طور پر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہیں ۔ سید حسن نصر اللہ نے جرمنی کے اقدام کو اسلامی مزاحمت کے خلاف قراردیتے ہوئے کہا کہ جرمنی کا اقدام امریکہ اور اسرائیل کی حزب اللہ کے خلاف گھناؤنی سازشوں ، جنگ اور ناکام عزائم کا حصہ ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا کہ ہماری کوئی تنظیم جرمنی ، فرانس یا کسی دوسرے ملک میں نہیں ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کسی کو کوئی مشکل پیش آئے اور نہ ہی ہماری اسرائیل کے علاوہ کسی سے کوئی جنگ ہے۔ ہماری جد و جہد اسرائیل کے خلاف ہے کیونکہ اسرائیل نے لبنان کے ایک حصہ پر ابھی بھی غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے ہم نے طاقت کے زور پر اپنے کچھ علاقوں کو اسرائیل کے ناپاک وجود سے آزاد کرالیا ہے کچھ علاقہ باقی ہیں انھیں بھی آزاد کرائیں گے ۔ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، حزب اللہ کے خلاف پابندیوں کی ایک وجہ فلسطینی تنظیموں کی حمایت بھی ہے۔ حزب اللہ لبنان فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ ہے اور ہم بیت المقدس کی آزادی تک فلسطینیوں کے ساتھ رہیں گے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے جرمنی کے اقدام کی مذمت کرنے والے دوست ممالک اور تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔

News Code 1899922

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 1 =