بھارت میں کورونا وبا کے اثرات/ مزدوروں اور طلباء کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا

بھارتی ریاست اتر پردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سید لطیف حسین کاظمی نے مہر نیوز کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں بھارت میں کورونا وائرس کے اثرات اور اس سلسلے میں مسلمانوں پر عائد الزامات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹرسید لطیف حسین کاظمی نے مہر نیوز کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں بھارت میں کورونا وائرس کے اثرات اور اس سلسلے میں مسلمانوں پر عائد الزامات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بھارتی وزارت داخلہ نے لاک ڈاؤن کے دوران پھنسے مزدوروں اور طلباء کو بعض شرائط کے ساتھ اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دیدی ہے۔

مہر نیوز: کیا آپ کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں بھارتی حکومت کے اقدامات کو تسلی بخش قراردیتے ہیں؟

ڈاکٹر لطیف : کورونا وبا نے پوری دنیا میں جو تباہی مچا رکھی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ دنیا کا ہر شخص اس وبائی مرض سے سہما ہوا ہے اور اسے لگتا ہے کہ بس موت اس کے سامنے کھڑی ہے۔ ہندوستان میں اس بیماری نے بہت سے خیر و شر کے معاملات کو جنم دیا ہے۔ حکومتی سطح پر کافی کوششیں ہورہی ہیں اور عوام کا خیال بھی رکھا جارہا ہے۔ خاص طور پہ محکمہ صحت اس سلسلہ میں جو اقدام اٹھا رہا ہے قابل ستائش ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران پھنسے ہوئے لوگوں کو جسمیں زیادہ تعداد مزدوروں اور طلباء کی ہے، وزارت داخلہ نے شرطوں کے ساتھ گھروں کو جانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔ ریاستی سطح پر خوراک اور رہائش کا بھی انتظام کچھ حد تک کیا گیا ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود کورونا وبا سے نپٹنے کے لئے جس طرح کے مؤثر اقدام حکومت اور دیگر ریاستی حکمرانوں کو کرنے چاہیں تھے وہ نہیں ہوپا رہے۔

مہر نیوز کی طرف سے بھارت میں کورونا وائرس پھیلانے کا الزام مسلمانوں پر عائد کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر لطیف نے کہا کہ  اس بیماری سے نپٹنے میں اور بہت سے دیگر مسائل سامنے آگئے کہیں مزدوروں کی رہائش اور خوراک کی بدانتظامی، کورونا بیماری کے علاوہ دوسری بیماریوں کے مریضوں کی آن دیکھی، مذہب کی آڑ میں مسلمانوں کے ساتھ بے رحمی کا برتاؤ،تعصب اور طعنہ کشی و غیرہ نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو پارہ پارہ کردیا ۔رہی بات میڈیا کی تو اس نے بھی جلتی میں اور تیل ڈالنے کا کام کیا اور ہندوستان کی نئی نسل میں تعصب، نفرت اور کدورت کا زہر بھردیا۔ حکومت کی جانب سے اس وقت کوئی مثبت جواب یا ہدایت نامہ ایسا جاری نہ کیا گیا کہ نفرت کی اس آندھی کی روک تھام ہوسکے۔ بڑی بات یہ ہے حکومت کے چنے ہوئے کارندے، وزراء اور گورنمنٹ کے نمائندے بھی زہر اگلنے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ مگر اب ہندوستان میں دیانتدار، ایماندار اور ہندوستان کو ایک گلدستہ کی طرح دیکھنے والا غیر مسلم طبقہ جس میں بعض حکمران، ادیب، فلمی دنیا کے اشخاص، شعراء، پروفیسر حضرات، طلباء، وکلا، تجارت پیشہ افراد و غیرہ شامل ہیں، وہ اس نفرت کے نظریات  کی مخالفت کررہے ہیں اور بلا لحاظ مذہب و ذات، علاقہ و زبان سب کی خدمت میں مشغول  ہیں۔ یہ خوش آئندہ قدم ہے اور اس کی ستائش ضروری ہے۔ خوب مالی تعاون بھی دے رہے اور خود بھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ ہندوستان کے خود کفیل مسلمان اور دوسرے حضرات اپنی اپنی استطاعت اور چاہت کے حساب سے نادار عوام، خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں، کی خدمت میں لگے ہیں۔ اس کورونا بیماری میں جو انجانے طور پر تبلیغی جماعت نے غلطی کی اور پورا ہندوستانی میڈیا، سوائے چند کے، ان کو لعن طعن کرنے پر تل گیا اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ بالکل اسی طرح کے واقعات، مگر جان بوجھ کر، ہندوستان کی بعض ریاستوں، مثلا مدھیہ پردیش جہاں حکومت سازی کا پروگرام چل رہا تھا، یا گورودوارا (دہلی) اور اب پنجاب سے سکھوں کے تین سے زیادہ لوگوں کا بسوں سے واپس آنا اور پورے گروپ کا مثبت کورونا ثابت ہونا، مندروں میں لوگوں کی موجودگی و غیرہ کی کوئی بات نہیں۔

اب کورونا وبا نے جو مثبت اثرات پوری دنیا پر چھوڑے ہیں اس کی وجہ سے زندگی کے معاملات، رہائش و عبادات کے طور طریقے، کھانے پینے، سماجی رابطے و ضابطے، میل جول کے طریقے، اپنے پرائے میں فرق، موت اور زندگی کو قریب سے دیکھنا، بزدلی اور دریا دلی، فکری اور عملی زندگی کا امتحان، احساس و ہمدردی و غیرہ گویا پوری طرح زندگی کا لائحہ عمل بدل کر رکھ دیا۔ ہندوستان کے دوسرے ممالک کا بھی امتحان ہونے لگا اور وفادار اور بے وفا دوست کا فرق بھی صاف صاف دکھائی دینے لگا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے صدر ڈاکٹر سید لطیف حسین کاظمی نے ایران میں کورونا وائرس کی روک تھام اور ایرانی عوام کے کردار کے بارے میں مہر نیوز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایران میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کے سلسلے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی ، ایرانی حکومت ، عوام اور جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی اور انھیں تعزيت اور تسلیت پیش کرتا ہوں۔ ایرانی حکومت اور عوام نے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں شاندار کردار اور رفتار کا مظاہرہ کیا اور حکومتی اور غیر حکومتی اداروں نے ملکر کر کورونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو دنیائے بشریت کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالی ایرانی قوم اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کی حفاظت فرمائے۔

ڈاکٹر لطیف نے ایرانی سپاہ کی طرف سے  نور سیٹلائٹ کو فضا میں بھیجنے کے بارے میں ہمر نیوز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران ترقی اور پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن ہے ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود نور نامی پہلا فوجی سیٹلائٹ فضا میں بھیج کر ثابت کردیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں ناکام ہوگئی ہیں۔  ایرانی قوم علم دوست قوم ہے ایران ہمیشہ علم و دانش کا گہوارہ رہا ہے ایران کی ثقافتی اور سآئنسی میں ترقی  اسلام اور مسلمانوں کی عظمت کا مظہر ہے۔

خدا سے دعا ہے وہ پوری دنیا اور خاص طور پر مسلم دنیا پر رحمت نازل فرمائے۔ ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ہو، لوگ اور خاص کر حکمراں اپنی کوتاہیوں اور ظالمانہ رویہ سے باز آئیں۔ اللہ تعالی ہمارے اس خوبصورت چمن ہندوستان پر بھی رحمت نازل  فرمائے تا کہ سب مل جل کر زندگی کے مختصر سفر میں پیار و محبت سے رہ سکیں۔

پروردگار محمد و آل محمد (ع) کے صدقے میں ہماری خطاؤں کو معاف کرے اور ہمیں اس بیماری اور دوسری ذہنی اور جسمی تکالیف سے نجات فرمائے۔  

News Code 1899874

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 8 =