اساتذہ کا عظيم اور سب سے بڑا کام اعلی اقدار کے لئے صلاحیتوں کو شکوفہ بنانا ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اساتذہ کا عظيم اور سب سے بڑا کام اعلی اقدار کے لئے بچوں اور جوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور شکوفہ بنانا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یوم اساتذہ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں فرمایا: اساتذہ کا عظيم اور سب سے بڑا کام  اعلی اقدار کے لئے بچوں اور جوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور شکوفہ بنانا ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے یوم معلم کی مناسبت سے مدارس، یونیورسٹیوں اور حوزات علمیہ کے اساتذہ اور معلمین کو مبارکباد پیش کی اوربچوں، جوانوں کی صلاحیتوں کو شکوفہ بنانے کے سلسلے میں  اساتذہ کے عظیم کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جس جوان نسل کی اس راہ میں تربیت ہوتی ہے وہ نسل ایک گرانقدر سرمایہ ہے اور دنیا کی کوئي چیز اس  عظیم سرمایہ کا مقابلہ اور برابری نہیں کرسکتی ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن حسب ذیل ہے:

بسمه تعالی

مدارس، یونیورسٹیوں ، حوزات علمیہ اور اسکولوں میں ملک کے بچوں اور نوجوانوں کے افکار اور علم کی آبیاری کرنے والے تمام اساتذہ کو یوم اساتذہ مبارک ہو۔

حضرت امام خمینی (رہ) نے اپنے بیان میں معلم اور استاد کے کام کو انبیاء کا کام قرار دیا تھا، یہ کوئی تبلیغاتی اور اشتہاری بیان  نہیں تھا، یہ قرآن کے الفاظ تھے جن میں کہا گیا تھا: وَيُزَكّيهِم وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتابَ وَالحِكمَةَ....تزکیہ، تعلیم، کتاب، اور خدائی حکمت، اسلام اور تمام انبیاء کی دعوت کے چار کلیدی الفاظ ہیں۔ دوسرا کلیدی لفظ قیام به قسط یعنی عدالت کا قیام ہے۔ مکتبِ نبوت میں، انسانی نسلیں کتاب اور حکمت کے ذریعہ تعلیم و تربیت پاتی ہیں، اور پھر اس طرح سے عدل و انصاف والی زندگی استوار کرتی ہیں، اور اس طرح انسانی معاشرہ انسانی خلقت کے اہداف تک پہنچ جاتا ہے۔
اسلامی نظام بھی انہی اہداف کے تحت ایک دینی اور عادلانہ اور مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے  سامنے آیا جس بنا پر ملک کا تعلیمی نظام بھی اسلامی نظام کے کلی اہداف کا اہم حصہ ہے ۔

اسلامی ملک میں بچے ، نوجوان اور جوان یہ سیکھتے ہیں کہ وہ اپنی بالقوہ صلاحیت و توانائی میں کیسے نکھار پیدا کریں تاکہ وہ انہیں اعلی قومی اقدار یعنی اسلامی و انقلابی اقدار کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرسکیں۔ 

یہ مؤثر ، کارآمد اور ثمر بخش تعلیم اور اس مقصد کا حصول ، وہ  عظیم  اور مبارک جہاد ہے کہ جس کی ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔

اسلام ہمیں مفید علم کے حصول کی دعوت دیتا ہے یہ مفید علم، ایک جانب ایرانی نوجوانوں کو ملک و قوم کی ترقی و پیشرفت کے لئے ضروری وسائل سے آراستہ کرتا ہے اور دوسری جانب انہیں تشخص اور پہچان عطا کرتا ہے اور ان کے اندر روحانی و معنوی جوش و ولولہ کی چمک اور خود اعتمادی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

ایسی نوجوان نسل جو اس طرح اور اس سلیقے سے تربیت پا رہی ہو اور پروان چڑھ رہی ہے اسکی قدر و قیمت  بہت  زیادہ ہے کہ جس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا اور کوئی دوسری قیمتی چیز اس کا مقابلہ اور اسکی برابری بھی نہیں کرسکتی۔

یہ عظیم اور گرانقدر دولت، اسکولوں، یونیورسٹیوں، حوزات علمیہ اور مدرسوں میں اساتذہ کی بے پناہ اور انتھک  محنتوں کا نتیجہ ہے،  ان کے محنتی ہاتھوں اور ان کے حوصلہ افزاء دلوں پر اللہ تعالی  کی رحمت اور فضل نازل ہو۔

بحمداللہ ہماری نوجوان نسل، ایسے ممتاز اور درخشاں نمونوں کو اچھی طرح  پہچانتی ہے کہ آج کی مادی دنیا میں، جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

شہید چمران اور شہید آوینی سے لے کر ایٹمی شعبہ کے شہداء اور شہید سلیمانی تک اور  پھرشہید مطہری جیسی عظيم شخصیت کے بے مثال نمونے ہیں شہید مطہری نے سن تیس کی دہائی میں  حوزہ علمیہ قم اور تہران یونیورسٹی میں شاندار کردار ادا کیا  اور سن پچاس کی دہائی میں درجہ  شہادت  پر فائز ہوکر  ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کرگئے۔

اللہ تعالی کا شہداء پرسلام ہو ، اساتذہ اور معلمین کا سپاسگزار ہوں  اورایرانی قوم کے نیک عاقبت اندیش جوانوں کے لئے میری نیک تمنائیں ہیں۔

سید علی خامنہ ای

۱۲ / اردیبهشت / ۱۳۹۹

News Code 1899845

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 12 =