بھارت میں تبلیغی جماعت کے سربراہ کے خلاف کورونا وائرس پھیلانے پر مقدمہ درج

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حکمراں جماعت " بی جے پی " کے کارکنوں کی طرف سے نفرت اور تعصب پھیلانے میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے بھارتی حکومت نے اب کورونا وائرس پھیلانے کا الزام بھی تبلیغی جماعت کے سر تھونپ دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حکمراں جماعت "  بی جے پی " کے کارکنوں کی طرف سے نفرت اور تعصب  پھیلانے میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے بھارتی حکومت نے اب کورونا وائرس پھیلانے کا الزام بھی تبلیغی جماعت کے سر تھونپ دیا ہے۔ بھارت میں پولیس نے کورونا وائرس کو پھیلانے کا سبب  بننے کے الزام  تبلیغی جماعت کے سربراہ  مولانا سعد کاندھلوی کے تھونپ دیا اور اس کے خلاف قتل خطا کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ مولانا سعد کاندھلوی نے 2 مرتبہ نوٹس بھجوانے کے باوجود کورونا کے پھیلاوکے پیش نظر نئی دہلی میں نظام الدین ایریا کے تبلیغی مرکز میں ہونے والا اجتماع منسوخ نہیں کیا۔پولیس کے مطابق 17 ریاستوں میں سامنے آنے والے ایک ہزار سے زائد کورونا کے کیسز کا تعلق اس اجتماع سے بنتا ہے اور یہ سب مبینہ طور پر بیرون ملک سے آنے والے تبلیغی ارکان سے متاثر ہوئے ہیں۔  ادھرتبلیغی جماعت کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 22 مارچ کو ملک گیر کرفیو کے اعلان کے فوری بعد مرکز میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی تھیں اور تمام افراد کو گھروں کو چلے جانے کا کہہ دیا گیا تھا۔ بھارت ذرائع کے مطابق بھارت میں حکمراں جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے کارکن مسلمانوں کو بھارت میں تنہا کرنے کی کوشش اور پھر بھارت سے نکالنے کے شوم منصوبے پر کام کررہے ہیں۔ بھارت کی حکمراں جماعت کے اکثر افراد  مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کے حامی طرفدار ہیں اس گروہ کو اسرائیلی اور برطانوی حمایت بھی حاصل ہے۔

News Code 1899479

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 2 =