کورونا وائرس کی روک تھام  اور پاکستانی حکومت کے اقدامات کا مختصر جائزہ

کوروناو ائرس نے پوری دنیا کی طرح پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کورونا وائرس سے اب تک پاکستان میں 6500 سے زائد افراد متاثر اور 124 افراد سے زائد جاں بحق ہوچکے ہیں۔اس سلسلے میں پاکستان کے ممتاز عالم دین اور عراق کے دینی مرجع کے نمائندے نے مہرکے نامہ نگارسے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی اردو سروس کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں پاکستان کے ممتازعالم دین اورعراق کے دینی مرجع آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ہادی حسین نے کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں پاکستانی حکومت کے اقدامات، پاکستان کے مذہبی اور سماجی اداروں کی خدمات اور پاکستان میں آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کی اس سلسلے میں خدمات کے بارے میں روشنی ڈالی ہے۔

مہر نیوز: کیا آپ کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں پاکستانی حکومت کے اقدامات کو تسلی بخش قراردیتے ہیں؟

شیخ ہادی حسین: کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں پاکستانی حکومت کے اقدامات کے بارے میں پاکستان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں میں مختلف نظریات ہیں ۔ بعض کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس سلسلے میں اچھے اقدامات کئے ہیں لیکن بعض حلقے اس نظریہ سے متفق نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں کافی تاخیر سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت کے اقدامات میں کافی تاخیر ہوئی ہے یہ اقدامات بہت پہلے انجام دینے کی ضرورت تھی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اپنے وسائل کے مطابق کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے اور اس کی روک تھام کے سلسلے میں اپنا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن اسے بعض مذہبی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مؤثر تعاون نہیں مل رہا ہے ۔ شیخ ہادی حسین نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے احساس پروگرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت غریب اور پسماندہ  افراد کو نقدی رقم کی مدد فراہم کی جارہی ہے۔

شیخ ہادی حسین نے کہا کہ شیعہ مسلمان پاکستانی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کررہے ہیں اوراکثر اہلسنت حضرات کا بھی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری ہے البتہ بعض مذہبی حلقے مذہبی اجتماعات کو روکنے کے سلسلے میں حکومتی احکامات پر عمل کرنے سے گریز کررہے ہیں اور  ان کے عدم تعاون پر مبنی اقدامات ملک میں کورونا  وائرس کے پھیلنے میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

مہر نیوز : آپ پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام اور عوام کی خدمات کے سلسلے میں پاکستانی علماء اور خاص طور پر آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کی خدمات کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

شیخ ہادی حسین: پاکستان میں آیت اللہ محمد یعقوبی کی ہدایات اور سفارشات کے مطابق ان کے دفتر کی طرف سے قرنطینہ میں موجود زائرین کو امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای  کے دفتر کی طرف سے بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو  امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور اس سلسلے میں دیگر علماء ، سماجی اور مذہبی اداروں کےکارکن بھی سرگرم عمل ہیں۔ کیونکہ  اس مشکل وقت میں متاثرہ افراد کی امداد دینی، مذہبی اور انسانی فریضہ ہے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں قائم آیت اللہ یعقوبی کے مرکزی دفتر کی طرف سے قرنطینہ میں موجود زائرین کی امداد جاری ہے اور ہم  اس مشکل وقت میں متاثرہ افراد اور زائرین کے ساتھ ہیں ۔ پوری قوم ، کورونا وائرس سے متاثرہ پاکستانی افراد اور زائرین کے ساتھ ہے۔ حجۃ الاسلام ہادی حسین نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس مختلف ممالک سے آنے والے شہریوں کی وجہ سے پھیلا ہے جن میں امریکہ، سعودی عرب ، چین ، اٹلی ، متحدہ عرب امارات شامل ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئے ہیں اور جن میں کئی افراد کورونا وائرس سے جاں بحق بھی ہوگئے ہیں جبکہ ایران سے آنے والے تمام زائرین کو پاکستانی حکومت نے پہلے ہی قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے اور انھیں ٹیسٹ کے بعد اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایک عالمی وباء ہے اور اسے کسی خاص ملک، مسلک یا گروہ سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی قوم پاکستانی حکومت کے ساتھ ملکر کورونا کو شکست دینے کے لئے پرعزم ہیں۔

شیخ ہادی حسین نے پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد  بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آج تک کورونا وائرس سے 6500 سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ اس مہلک وائرس سے 124 افراد سے زائد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور حکومت نے دیگر اقوام اور ممالک کی طرح کورونا کو شکست دینے کا عزم کررکھا ہے۔

News Code 1899445

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 6 =