کورونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیراعظم کی حالت بدستور خراب

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو گزشتہ روز لندن کے ایک مقامی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے کیونکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دس دن بعد بھی ان میں کورونا وائرس کی علامات مسلسل موجود تھیں اور ان کی طبیعت بدستور خراب تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو گزشتہ روز لندن کے ایک مقامی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے کیونکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دس دن بعد بھی ان میں کورونا وائرس کی علامات مسلسل موجود تھیں اور ان کی طبیعت بدستور خراب تھی۔ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے اسپتال منتقلی کو "احتیاطی قدم "  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بورس جانسن کو ڈاکٹروں کے مشورے پر مزید ٹیسٹ کےلیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ بورس جانسن کے ساتھ ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں مقیم، ان کی 32 سالہ منگیتر کیری سائمنڈز بھی کورونا وائرس سے متاثر تھیں لیکن ہفتے کے روز انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک ہفتے تک کورونا وائرس کی وجہ سے شدید بیمار رہیں، مگر اب ان کی طبیعت بہتر ہے اور بحال ہوتی جارہی ہے۔

برطانوی کے مطابق بورس جانسن کو مسلسل بخار ہے اور ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ " وزیر اعظم ہاؤس " کی جانب سے حقیقت چھپائی جارہی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ جانسن " اب بھی حکومت کے سربراہ ہیں" ۔ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ بورس جانسن کا اسپتال میں داخلہ کسی احتیاطی تدبیر کا حصہ نہیں بلکہ یہ ہنگامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ واضح رہے کہ 55 سالہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں 27 مارچ کے روز کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد وہ ازخود قرنطینہ میں چلے گئے تھے جبکہ امورِ حکومت کےلیے وہ ویڈیو اور کانفرنس کال کے ذریعے دیگر سرکاری عہدیداروں سے رابطے میں تھے۔ذرائع کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اپنی غفلت اور سستی کی بنا پر خود بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے اور برطانوی عوام کو بھی مبتلا کیا کیونکہ اس نے برطانوی ذرائع ابلاغ نے اس مہلک کورونا وائرس کوابتدا میں مذاق سمجھا تھا۔

News Code 1899182

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 1 =