پاکستان میں تبلیغی جماعت کا کورونا وائرس پھیلانے میں اہم،  بنیادی اور اساسی کردار

پاکستان میں وہابی تبلیغی جماعت نے کورونا وائرس پھیلانے میں بنیادی اور اساسی کردار ادا کیا ہے جس کے ٹھوس شواہد میڈیا پر آنا شروع ہوگئے ہیں تبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات میں سیکڑوں غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں میں سیکڑوں مریض تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں۔ تبلیغی جماعت کے 41 ہزار افراد پاکستان بھر میں پھیل چکے ہیں جن کی حکام تلاش کررہے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  پاکستان میں وہابی تبلیغی جماعت نے کورونا وائرس پھیلنے کے ایام میں پاکستان بھر میں بڑے بڑے اجتماعات کئے جن میں سیکڑوں غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں میں سیکڑوں مریض تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں۔ تبلیغی جماعت کے 41 ہزار افراد پاکستان بھر میں پھیل چکے ہیں جن کی حکام تلاش کررہے ہیں۔  پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تبلیغی جماعت کے 41 ہزار افراد کی تلاش کر رہے ہیں جورائیونڈ کے بڑے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے کے بعد ملک بھر میں مشنز پر چلے گئے۔ کورونا وائرس مہم پر موثر رابطے کی نگرانی کرنے والے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی سی سی) سے منسلک ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 10 ہزار افراد سے 60 شہروں میں کووڈ 19 پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور دو درجن تبلیغی مراکز میں کورونا کے مثبت کیسز کی اطلاعات ہیں۔ تبلیغی جماعت کے کُل ایک لاکھ بارہ ہزار میں سے چار ہزار پانچ سو کے لگ بھگ افراد تقریباً 26 شہروں سے رائیونڈ آئے تھے۔

افسر کے مطابق سالانہ اجتماع وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظرمنسوخ  کرنے کا مشورہ دیا گيا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو سو سے زائد مساجد میں تبلیغی جماعت کے لگ بھگ 900 غیرملکی مہمان اور 14 ہزار سے زائد مقامی افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے جماعتی مراکز میں نئے لوگوں کو بھی داخلے سے روک دیا ہے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے تمام ارکان کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا ہے۔  حکام کے مطابق کم سے کم 170 تبلیغی افراد کا ٹیسٹ اب تک مثبت آیا ہے جبکہ ڈیڑھ سو زائد ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 70 فیصد غیرملکی اپنے اپنے ملک لوٹ گئے ہیں۔ ادھر صوبہ سندھ میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کے ارکان کے 221 ٹیسٹ کے نتائج آگئے ہیں جن میں سے 94 کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ 15 ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار ہے۔

صوبے میں تقریباً 453 غیرملکیوں کو مختلف آئیسولیشن مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ادھر صوبہ پنجاب میں  296 غیرملکیوں کو لاہور کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے جبکہ 10 کو شیخوپورہ، 45 کو گوجرانوالہ، 23 کو سرگودھا، 17 کو فیصل آباد، 41 کو ملتان اور 21 غیرملکیوں کو ڈی جی خان کے قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تبلیغی جماعت کے 8 ہزار افراد کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔

لاہور میں 2 ہزار 2 سو سے زائد مقامی افراد جبکہ راولپنڈی میں 9 سو افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جن میں سے 80 فیصد میں علامات پائی گئی ہیں۔ 550 ارکان بشمول چین، سعودی عرب ، انڈونیشیا، تیونس، نائیجیریا، افغانستان، ترکی اور دیگر ممالک کے 26 افراد کو سکھر اور حیدرآباد کی مساجد میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ 50 ارکان بشمول پانچ نائیجیرین خواتین کو قصور میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ 250 سے زائد ارکان کو مرکز میں قرنطینہ کیا گیا ہے جہاں ایک رکن کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور لیہ میں 106 کے نتائج کا انتظار ہے اور 4 سو سے زائد کو ملتان میں قرنطینہ کیا گیا ہے جہاں کئی غیرملکیوں کو ابدالی مسجد میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں 17 مثبت کیسز ہیں جن میں سے چھ افراد قرقزستان اور دو فلسطین کے ہیں۔ 70  سے زائد تبلیغی افراد کو کوٹ ہتھیال میں مکی اور بلال مسجد میں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ 3 ہزار سے زائد تبلیغی بشمول 2 سو غیرملکی بلوچستان اور کے پی کے میں چار ماہ کے تبلیغی مشنز پر چلے گئے ہیں۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق تبلیغی جماعت نے پاکستان میں کرونا وائرس کے ایام میں بڑے بڑے اجتماعات کرکے کورونا وائرس کو پھیلانے میں بنیادی اور اساسی کردار ادا کیا ہے۔ ادھر پاکستانی حکام نے اب اعتراف کیا ہے کہ حسینی زائرین پر حکومت کی پہلے سے ہی توجہ مرکوز تھی حسینی زائرین پہلے سے ہی تفتان سرحد پر قرنطینہ میں تھے اور وہ حکومتی نگرانی اور اسکریننگ کے بعد اپنے گھروں میں واپس گئے ہیں ان کے اعداد و شمار اور اطلاعات حکومت کے پاس موجود ہیں سندھ کے وزير اعلی نے کہا ہے کہ 100 فیصد یقین ہے کہ  زائرین کا کورونا وائرس پھیلانے میں کوئي کردار نہیں کیونکہ ان کی ابتدا ہی سے نگرانی جاری تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے بعض سعودی اور امریکی نواز ذرائع ابلاغ نے کورونا وائرس کے ابتدائی ایام میں ایران سے واپس پاکستان جانے والے زائرین کے خلاف زبردست زہریلا پروپیگنڈہ کیا ۔ مذکورہ ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب، امارات، اٹلی ، برطانیہ ، ترکی اور امریکہ سے آنے والے مسافروں پر کوئی توجہ نہیں دی اور انھیں کورونا سے پاک قراردینے کی کوشش کی ۔ پاکستان میں کورونا کے ایام میں تبلیغی جماعت کے ملکی اور غیر ملکی افراد کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ مقررہ وقت پر ان کی کوئی نگرانی نہیں کی گئی ۔ تبلیغی جماعت کے ہزاروں افراد کورونا وائرس کے ہمراہ پاکستان بھر میں پھیل چکے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کے سیکڑوں افراد میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آچکے ہیں وقت گزرنے کے بعد ان کے بعض مراکز کو قرنطینہ کیا گیا ہے جہاں اب بھی قرنطینہ سے تبلیغی جماعت کے افراد فرار کررہے ہیں۔  قرنطینہ پر مامور ایس ایچ او کو بھی زخمی کرکے تبلیغی جماعت کے افراد فرار ہوگئے۔ کورونا عالمی وباء ہے اس کے مقابلے کے لئے باہمی اتحاد اور ہم اہنگی ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت کے قائدین کو پاکستانی حکومت کے دستورات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے تھا اگر انھوں نے متعلقہ حکام کے دستورات پر عمل کیا ہوتا اور رائیونڈ اور پاکستان کے دیگر مقامات پر اجتماعات منسوخ کردیئے ہوتے تو پاکستانی حکومت اور عوام کو آج اتنی بڑی پریشانی اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔

News Code 1899073

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 6 =