خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پاکستانی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پاکستانی، بنگلادیشی اور بھارتی شہریوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سخت اقدامات کی وجہ سے قید اور ملک بدری کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں پاکستانی، بنگلادیشی اور بھارتی شہریوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سخت اقدامات کی وجہ سے قید اور ملک بدری کے باعث غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنطیموں ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) اور ایمنسٹی نے خبردار کیا تھا کہ تنگ رہائشی جگہوں اور ناکافی صفائی کی وجہ سے خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں غیر ملکی ورکرز خطرے میں جو ہیلتھ کیئر تک شاید رسائی نہ حاصل کرسکیں۔

اس کے علاوہ انہیں تنخواہوں کی عدام ادائیگی، زبردستی نوکری سے فارغ اور ملک بدری جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے ان پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے صورتحال بدتر ہوسکتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ خلیج کی محقق حبا ضیا الدین کا کہنا تھا کہ "خلیجی ممالک میں غیر ملکی ورکرز کو مزدوروں کے حوالے سے موجود نظام کی وجہ سے پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے جو آجروں کو غیر ملکی ورکرز کے حوالے سے بے پناہ اختیار دیتا ہے جس کے نتیجے میں ان کا استحصال اور بدسلوکی ہوتی ہے" ۔

سعودی عرب جہاں ایک کروڑ غیر ملکی ورکرز ہیں وہاں موجود کچھ مزدوروں کا کہنا تھا کہ انہیں ان کےباس کام پر بلا رہے ہیں جبکہ سعودی شہریوں کو تنخواہ کے ساتھ قرنطینہ کی چھٹیاں دے دی گئی ہیں۔

ایک مزدور نے بتایا کہ انہیں کہا گیا کہ اگر ان کی طبیعت خراب ہو تو وہ تنخواہ کے بغیر چھٹی حاصل کرسکتے ہیں لیکن انہوں نے کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ریاض میں موجود ایک غیر ملیکی سفارتکار نے بتایا کہ ’نجی شعبے میں کام کرنے والے بہت سے ورکرز کئی شعبوں کی بندش سے مشکلات کا شکار ہیں کیوں کہ زیادہ تر مالکان ورکرز کو تنخواہوں کے بغیر گھر سے بیٹھ کر کام کرنے کا کہہ رہے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی جانب سے نجی شعبے کو معاوضے کی ادائیگی کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے کیوں کہ مالکان ورکرز کی پرواہ کیے بغیر معاوضے کو اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں‘۔

تاہم بہت سے ورکرز نکالے جانے کے خوف سے اس بارے میں بات کرنے سے بھی گریزاں ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ ان کہ اپنے ملکوں میں صحت کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔

واضح رہے کہ تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک میں زیادہ تر غیر ملکی ورکرز کا تعلق بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان سے ہے۔

News Code 1899027

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 8 =