بھارتی خاتوں ڈاکٹر نے سستی ٹیسٹنگ کٹ تیار کرکے بڑا مسئلہ حل کردیا

بھارت میں ایک خاتون ڈاکٹر نے بچے کو جنم دینے سے چند گھنٹے پہلے مقامی سطح پر ٹیسٹنگ کٹ تیار کرکے بھارت کا بڑا مسئلہ حل کردیا ہے۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں ایک خاتون ڈاکٹر نے بچے کو جنم دینے سے چند گھنٹے پہلے مقامی سطح پر ٹیسٹنگ کٹ تیار کرکے بھارت کا بڑا مسئلہ حل کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف جنگ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرکے ہی جیتی جاسکتی ہے لیکن بھارت میں ٹیسٹوں کی کمی کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا تھا ۔ اب بھارت کی ہی ایک خاتون ڈاکٹر نے بچے کو جنم دینے سے چند گھنٹے پہلے مقامی سطح پر ٹیسٹنگ کٹ تیار کرکے بھارت کا بڑا مسئلہ حل کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونہ  سے تعلق رکھنے والی وبائی امراض کی ماہر ڈاکٹر منال داکھوے بھوسلے نے ٹیسٹنگ کٹ تیارکی ہے جو اب مارکیٹ میں بھی آچکی ہے۔ پونہ شہر کی مائی لیب ڈسکوری کمپنی کو ٹیسٹنگ کٹ کے حقوق مل گئے ہیں اور انہوں نے پہلے مرحلے میں 150 ٹیسٹنگ کٹس تیار کرکے پونہ ، ممبئی ، نئی دہلی، گوا اور بنگلور بھجوادی ہیں۔  ذرائع کے مطابق بھارت کو کورونا وائرس کی درآمدی ٹیسٹنگ  کٹ 4500 روپے کی بنتی ہے لیکن ڈاکٹر منال بھوسلے کی بنائی گئی کٹ کی قیمت صرف 1200 روپے ہے اور اس کے ذریعے 100 ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ایک مریض کے ٹیسٹ پر صرف 12 روپے کی لاگت آئے گی۔

منال بھوسلے کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کٹ تیار کرنے میں 3 سے 4 مہینے لگنے تھے لیکن ان کی ٹیم نے ریکارڈ مدت یعنی 6 ہفتے میں یہ کام کردکھایا۔ منال بھوسلے نے فروری میں حمل کے باعث ہسپتال سے چھٹٰیاں لی تھیں۔ " یہ ایک ہنگامی صورتحال تھی جس کی وجہ سے میں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور پیچیدگیوں کے باوجود کٹ تیار کرنے میں ہو گئی۔" منال بھوسلے کی ٹیم نے 18 مارچ کو اپنی کٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کو جمع کرائی اور 19 مارچ کو انہوں نے بیٹی کو جنم دیا۔

News Code 1899008

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha