پسماندہ ممالک کو کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد درکار

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرس نے کہا ہے کہ دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کو کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد درکار ہوگی۔

مہر خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹرس نے کہا ہے کہ دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کو کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کے لیے 2 ارب ڈالر کی امداد درکار ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کو اقوام متحدہ نے غریب ممالک کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے لیے اپنے امدادی پروگرام اورعالمی سطح پر عطیات کی اپیل جاری کردی ہے۔ سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کوویڈ 19 پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے اور تمام انسانیت کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر اقدامات اور یک جہتی کی ضرورت ہے، ممالک کے انفرادی اقدامات کافی نہیں ہوں گے۔ انٹونیو گوٹرس کا کہنا تھا کہ رکن ممالک کی جانب سے دنیا کے 10 کروڑ افراد کے لیے امدادی پروگرام جاری رہنا چاہیے بصورت دیگر کورونا وائرس ہیضہ، خسرہ جیسے وبائی امراض سے زیادہ تباہ کُن ثابت ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق دو روز قبل اقوام متحدہ کے سربراہ نے دنیا کی بڑی معاشی قوتوں جی 20 ممالک کو لکھے گئے اپنے خط میں پس ماندہ ممالک کی امداد کے لیے جنگی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔ اقوام متحدہ کا ہنگامی امدادی منصوبہ اپریل سے دسمبر تک جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ کی 2.012ارب ڈالر کی رقم عالمی ادارۂ صحت اور عالمی ادارۂ خوراک کے پروگرامز میں استعمال ہوگی۔

News Code 1898911

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 4 =