چین میں نئے وائرس ہینٹا سے ایک شخص ہلاک ، 32 متاثر

چین میں نئے قسم کے ہینٹا وائرس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے جبکہ اس وائرس میں 32 افراد مبتلا بھی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے چائنا گلوبل ٹائمز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین میں  نئے قسم کے ہینٹا وائرس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے جبکہ اس وائرس میں 32 افراد مبتلا بھی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چینی صوبے یونان میں چلتی بس میں ایک شخص کا انتقال ہوگیا اور اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے جسم میں ہینٹا وائرس موجود تھا۔ اس کے ساتھ سفر کرنے والے بقیہ 32 مسافروں کو بھی ٹیسٹ کے لیے ایک طبی مرکز لے جایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہینٹا وائرس کی کئی اقسام ہے جو خاص قسم کے چوہے سے پھیلتی ہے اور انسانوں کو متاثر کرتی ہے تاہم ایک متاثرہ انسان سے دوسرے میں پھیلنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

کورونا کی طرح ہینٹا وائرس بھی سانس کے پورے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی بنا پر اسے ہینٹا وائرس پلمونری سنڈروم ( ایچ پی ایس) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا شکار مریض جریانی بخار اور سانس کے امراض کا شکار ہو کر ہلاک ہوجاتا ہے۔

اگرچہ یہ مرض ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں لیکن اس میں مبتلا ہونے والے افراد کی 35 سے 50 فیصد تعداد لقمہ اجل بن سکتی ہے جبکہ کورونا سے مرنے والے افراد کا تناسب مشکل سے 2 سے 4 فیصد ہے۔

2018ء اور 2019ء میں ارجنٹینا اور چین میں ہینٹا وائرس کے متعدد کیس سامنے آئے تھے جن میں درجنوں افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ دونوں ممالک میں ایسے کسان اور دیہی افراد متاثر ہوئے تھے جن کی فصلوں اور گوداموں میں ایک طرح کے چوہے کی بہتات تھی۔ یہ مرض ان چوہوں کے فضلے سے پھیلتا ہے اور اس فضا میں سانس لینے سے انسان پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، تھکاوٹ، غنودگی، سردرد اور بدن میں درد شامل ہیں۔

News Code 1898873

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 6 =