یمن کے بحران کا حل فوجی نہیں/ اسٹاک ہوم معاہدے پر گہری توجہ دینے کی ضرورت

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کے بحران کا حل فوجی نہیں ہے بلکہ اسٹاک ہوم معاہدے پر گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن کے بحران کا حل فوجی نہیں ہے بلکہ اسٹاک ہوم معاہدے پر گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں  یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ ظالمانہ جنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے نہتے عربوں کا دل کھول کر خون بہایا ہے اور آج بھی وہ یمن کے غیور اور بہادر عربوں کا خون بہانے میں مصروف ہے سعودی عرب کو معلوم ہونا چاہیے کہ یمن کے نہتے عربوں کو وہ فوجی طاقت کے ذریعہ شکست نہیں دے سکتا اورگذشتہ 6 سال سے یمنی عوام کی استقامت نے اس بات کا واضح ثبوت ہے لہذا سعودی عرب کو اسٹاک ہوم مذاکرات اور معاہدے کی روشنی میں یمن میں جاری جنگ کے دلدل سے نکل جانا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ اور اس کی اتحادی سامراجی طاقتوں کے ہتھیاروں کے زور پر یمن کے نہتے مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے۔ سعودی عرب کے بھیانک ہوائی حملوں کے باوجود یمنی عوام کی استقامت اور پائداری کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو امریکہ کی نیابت میں خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے اقدامات سے پرہیز کرنا چاہیے اور امریکہ کے ہتھیاروں سے مسلمانوں کا قتل عام  بھی بند کردینا چاہیے، امریکہ خطے مین اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کررہا ہے اور موقع ملنے پر وہ سعودی عرب کو بھی معاف نہیں کرےگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران نے یمن جنگ کے آغاز سے ہی اس مسئلہ کو باہمی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کرنے پر زوردیا تھا اور ایران آج بھی اپنے اسی مؤقف پر قائم ہے کہ یمن کے مسئلہ کا حل فوجی نہیں بلکہ اس مسئلہ کو یمنی – یمنی مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

News Code 1898868

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 2 + 3 =