عید نوروز کا تاریخی اور اسلامی پس منظر/ ایران کا قدیم تہوار / ہجری شمسی سال کا پہلا دن

عید نوروز کا تہوار اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک افغانستان، آذربائیجان،تاجیکستان، ازبکستان افغانستان، پاکستان ، کشمیر اور ہندوستان میں قومی عقیدت اور جوش و ولولہ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عید نوروز کا تہوار اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک افغانستان، آذربائیجان،تاجیکستان، ازبکستان افغانستان، پاکستان ، کشمیر اور ہندوستان میں قومی عقیدت اور جوش و ولولہ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ایرانی قوم عید نوروز کو سال کے اہم تہوار کے طور پر مناتی ہے. نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی لوگ اپنے گھروں کی صفائی شروع کر دیتے ہیں ۔ اس موقع پر لوگ نئی چیزیں خریدنے کا بھی شوق رکھتےہیں ۔عید نوروز فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ جہاں جہاں تک  فارسی زبان کے اثرات ہیں وہاں وہاں نوروز کا جشن منایا جاتا ہے ۔  اسلامی تاریخ کے لحاظ سے نوروز ہی کا دن ہے جب پہلی بار دنیا میں سورج طلوع ہوا، درختوں پر شگوفے چٹخنے لگے،حضرت آدم علیہ السلام زمین پراترے، حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہ جودی پراتری اور طوفان نوح ختم ہوا،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو توڑا اور نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی " صلی علیہ وآلہ وسلم " پر وحی کے نزول کا آغاز ہوا۔
ایران سمیت بہت سارے ممالک میں نوروز کو سرکاری طور پر منایا جاتاہے ،افعانستان،البانیا، آذربائیجان، جارجیا، کوسوو، قرقیزستان، ازبکستان ،عراق، قزاقستان، تاجیکستان، ترکمانستان، عراقی کردستان وغیرہ میں نوروز کے دن سرکاری چھٹی ہوتی ہے-
نوروز کے موقع پر مختلف دعائیہ اور سماجی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے اور مخصوص پکوان تیار کیے جاتے ہیں، ایران میں یہ تہوار 13 دن تک منایا جاتا ہے جبکہ افغانستان میں نوروز کی تقریبات کے آغازکا سرکاری اعلان مزارشریف سے کیا جاتا ہے۔
وسط ایشیائی ممالک میں بھی نوروز کو تہوار کی طرح منایا جاتا ہے جبکہ پاکستان، کشمیر اور بھارت کے کچھ علاقوں میں نوروز کے دن خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ غسل اور پاک و صاف لباس پہنا جاتا ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقوں گلگت بلتستان اور چترال میں جشن نوروز ثقافتی اور مذہبی عقیدت واحترام سے منایا جا تا ہے.
ہندوستان میں مغلوں کے دور حکومت میں نوروزکا تہوار سرکاری طورپر منایا جاتا تھا نامور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں چونکہ عرب کے تہوار ثقافتی طورپر اتنے رنگین اوردلکش نہیں تھےجبکہ ایران کے مسلمان بادشاہ اپنی روایات کو بطورورثہ اپنے ساتھ ہندوستان لائے انہوں نے ان تہواروں اور رسومات کو جاری رکھا اس لئے مسلمان بادشاہوں کے دربار میں نوروز کا تہوار بڑی شان وشوکت کے ساتھ منایا جاتا تھا۔

جشنِ نوروز کا آغاز آج سے ہزاروں برس قبل ہوا ترقی کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے اب یہ تہوار بین الاقوامی شہرت اختیار کر چکا ہے اقوام متحد ہ کی جنرل اسمبلی نے 2010ء میں نورو ز کو بین الاقوامی فیسٹول قرا ر دیا، اسی مناسبت سے ایران نے خصوصی ڈاک ٹکٹ کا اجرکیا جس کا تہران میں 27 مارچ 2010 کو "نوروز کے پہلے بین الاقوامی دن " کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں ایرانی صدر نے اجراء کیا۔
جشن نوروز نہ صرف ثقافتی ترقی کی علامت ہے بلکہ یہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروع ،امن اور بھائی چارے کا بھی مظہر ہے
نوروزکا دن اقوام متحدہ سے منسلک ثقافتی ادارے  یونیسکو میں رجسٹرڈ بھی ہے۔جبکہ  30مارچ 2009ء کو کینڈین پارلیمنٹ نے اپنے اجلاس میں ایک بل پاس کرتے ہوئے نوروز کو قومی کلینڈر میں شامل کیا اس کے ساتھ ہی امریکہ کے ایوان نمائندگان نے بل پاس کرتے ہوئے نوروز کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو تسلیم کیا ۔
نوروز ایک ایسا ثقافتی تہوار ہے جو علم دوستی،مساوات، باہمی تعاون  اور بھائی چارے کی روایات اپنے ہمراہ رکھتا ہے۔ قدیم فارس حکومت کے زیراثر علاقوں اور ان سے متصل علاقوں مثلا پاکستان کے صوبہ بلوچستان،خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں عید نوروز کو اس کی حقیقی صورت میں ہی منایا جاتا ہے ۔ اس دن مقامی طور پر عام تعطیل کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ نیزہ بازی ، پولو اور دیگر مقامی کھیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے  ۔ جشن نوروز کو بلتستان کی تاریخ ، ثقافت اور تہذیب میں اہم مقام حاصل ہے ۔ اسکردو میں نوروز کو فطرت کی تجدید کا دن تصور کیا جاتا ہے۔ بلتستان میں دیرینہ رسم کے تحت لوگ نوروز کے دن اور تحویل سال کے لمحے کو خیر وبرکت اور بہتر سال کی دعا کے ساتھ مناتے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان میں بہار کی آمد پر جشن منایا جاتا ہے کہ جس کو ""بسنت میلہ " یا "جشن بہاراں" کہا جاتا ہے ۔ موسم بہار کی آمد کے ساتھ  اس جشن کو ہر سال منایا جاتا ہے جس میں کئی رنگا رنگ پروگراموں کے علاوہ بچوں کے لئے تفریحی پروگرام، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان کھیلوں کے مقابلے ، پھولوں کی آرائش کے مقابلے، مشاعرے، چہروں پر نقاشی اور مہندی سجانے کے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ موسم بہار کے شروع ہونے سے پہلے ہی شجرکاری مہم کا بھی آغاز کر دیا جاتا ہے اور یوں برصغیر کی زرخیز زمین بہار کی آمد کے ساتھ سرسبز نظاروں میں اپنی  مثال آپ بن جاتی ہے۔ نوروز کا تعلق کسی خاص فرقہ یا مذہب سے نہیں بلکہ یہ دن عالمی دن میں تبدیل ہوگیا ہے جوے اقوام متحدہ کے ثقافتی ورثہ میں شامل ہوگیا ہے۔

News Code 1898764

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 7 =