بنگلہ دیش میں بھارتی وزير اعظم کے دورہ سے قبل مظاہرے شروع ہوگئے

بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ پالیسیوں اوردارالحکومت دہلی میں مسلم کش فسادات کے بعد بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے بھارتی وزير ا‏عظم نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے خلاف مظاہرے شروع کردیئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ پالیسیوں اوردارالحکومت دہلی میں مسلم کش فسادات کے بعد بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے بھارتی وزير ا‏عظم نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے خلاف مظاہرے شروع کردیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم کے دورہ بنگلہ دیش سے قبل پورے ملک میں مودی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیاہے۔گزشتہ ماہ 27فروری کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں سیکڑوں ہندو انتہا پسند بلوائیوں نے مسلم آبادی والے علاقے پر دھاوا بول کر مسلمانوں کے گھروں، گاڑیوں اور مسجدوں کو نذرآتش کیا تھا اور خواتین اور بچوں سمیت 47کے قریب افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں بھی بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور اب بھارتی وزیراعظم کے بنگلہ دیش کے دورہ کے موقع پران مظاہروں میں شدت آ گئی ہے اور مظاہروں کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ان مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے لاٹھی جارچ اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا جس میں کئی مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔ واضح رہے بھارتی وزير اعظم  نریندر مودی  17 مارچ کا بنگلہد یش کا دورہ کریں گے جہاں وہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کی 100ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

مظاہرین نے کہا ہے کہ اگر بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے نریندر مودی کا 17مارچ کو ہونے والا دورہ منسوخ نہ کیا تو جس ائیرپورٹ پر بھارتی وزیراعظم کا طیارہ اترے گا اسے گھیر لیا جائے گا۔

News Code 1898455

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 1 =