مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف بھارتی سرکار کا بھیانک منصوبہ بے نقاب

بھارت میں مودی سرکار کا مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنے آباؤ اجداد کے علاقے سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔

 مہر خبررساں نے ایکس پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں مودی سرکار کا مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اپنے آباؤ اجداد کے علاقے سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں سرمایہ کاری کےنام پرکانفرنس کرانےکی تیاریاں شروع کردی ہیں جس میں کشمیر کی زمین کوڑیوں کے مول غیر مقامی ہندوؤں کو فروخت کی جائے گی۔ گلوبل انویسٹرز کانفرنس مارچ یااپریل میں کرائی جائےگی جس کے ذریعے فلم انڈسٹری، سیاحت، زراعت، باغبانی، آئی ٹی، متبادل توانائی اور دیگر صنعتوں کے نام پر زمینیں ہندوؤں کو دی جائیں گی۔ مقبوضہ کشمیر کے 18 شہروں میں 6 ہزارایکڑاراضی مختلف ہتھکنڈوں سےقبضےمیں لی جاچکی ہے جو ہندوپنڈتوں اورآرایس ایس کےورکرزکودی جائےگی جبکہ دارالحکومت سری نگر کی 20 ہزار کنال اراضی بھی ہندو سرمایہ کاروں کو ایک روپیہ فی کنال پر دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ بنکوں نے کشمیری تاجروں کی 2 ہزار اراضیاں یکم مارچ سے قبضے میں لینے کا عمل شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 7 دہائی میں کشمیر کی 42 ہزار کنال اراضی صنعتکاروں کو دی جاچکی ہے حالانکہ کشمیر کی زمینی حیثیت میں تبدیلی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے۔

News Code 1898363

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 0 =