سعودی عرب میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت

سعودی عرب اب وہابیت سے مغربی ثقافت کی جانب گامزن ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب نے ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے عورتوں کو مردوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیدی ہے سعودی عرب میں رواں برس سعودی عربوں نے نامحرم مردوں کے ساتھ تاش کھیلا تھا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے العربیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب اب وہابیت سے مغربی ثقافت کی جانب گامزن ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب نے ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے عورتوں کو مردوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیدی ہے سعودی عرب میں رواں برس سعودی عربوں نے نامحرم مردوں کے ساتھ تاش کھیلا تھا۔ تاش کے پتوں کے ایونٹ میں جہاں پہلی بار سعودی عورتوں نے شمولیت اختیار کی تھی، وہیں انہوں نے مردوں کو شکست بھی دی تھی۔ اور اب سعودی عرب کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پہلی بار مختلف کھیلوں کی خواتین کھلاڑیوں کونامحرم مرد حضرات کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔سعودی عرب کے اسپورٹس وزیر شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے اولمپکس کھیلوں میں خواتین بھی شریک ہوں گی۔ عرب ذرائع کے مطابق سعودی عرب دنیا بھر میں وہابیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اس نے دنیا میں بڑے بڑے وہابی مدارس اور مساجد بنوائیں لیکن اب سعودی عرب وہابیت کے سائے میں مغربی ثقافت کو اپنا رہا ہے جس کے اسلام کے لئے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

News Code 1898188

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 7 + 10 =