بھارت میں  20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری مسلم کش فسادات پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرابتدا تھی اوراب بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری مسلم کش فسادات پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیرابتدا تھی اوراب بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک ارب سے زائد آبادی والے ایٹمی ہتھیار سے لیس ملک بھارت میں نازی فلسفے سے متاثر ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور جب بھی نفرت پر مبنی نسل پرستانہ نظریہ اقتدار سنبھالتا ہے تو وہ ملک میں خونریزی کا باعث بنتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میں نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران یہ پیش گوئی کردی تھی کہ ایک بار یہ جن بوتل سے باہر آگیا تو خون خرابہ اور بڑھ جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں شروعات تھی۔ اب ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عالمی برادری کو اب عمل کرنا چاہئے، عالمی برادری بھارت کی صورتحال پر لازمی ایکشن لے۔پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم بھارتی مظالم سے دنیا کو صرف آگاہ کررہے ہیں سعودی عرب نے پاکستانیو زير اعظم عمران خان کو نہ ملائشیا کے اسلامی سربراہ اجلاس میں شرکت کی اجازت دی اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پر او آئی سی تنظیم کے وزراء خآرجہ کا اجلاس بلانے کی دعوت دی۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کو ملک سلمان اور ٹرمپ کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔

News Code 1898159

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 11 =