امریکہ کے منحوس صدر کے دورہ دہلی کے دوران 20 مسلمان شہید

بھارت کی مرکزی انتہا پسند حکومت نے دارالحکومت دہلی میں امریکہ کے منحوس صدرٹرمپ کی موجودگي میں دہلی کو مسلمانوں کے خون سے لہو لہان کردیا ، دہلی پولس نے 20 نہتے مسلمانوں کو شہید اور 250 سے زائد کو زخمی کردیا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی مرکزی انتہا پسند حکومت نے دارالحکومت دہلی میں امریکہ کے منحوس صدرٹرمپ کی موجودگي میں دہلی کو مسلمانوں کے خون سے لہو لہان کردیا ، دہلی پولس نے 20 مسلمانوں کو شہید اور 250 سے زائد کو زخمی کردیا۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 20 ہوگئی ہے اور 250 سے زائد زخمی ہیں۔ دہلی کی سڑکوں پر پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوؤں کا راج ہے۔ مسلح جتھوں نے مسلمانوں کی دکانیں اور گھر نذر آتش کردیے جبکہ متعدد مساجد اور مدرسوں کو شہید کردیا ہے۔ شہر میں شدید کشیدگی برقرار ہے اور جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہا ہے جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات ہے۔ متاثرہ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر بند ہیں، امتحانات ملتوی ہوگئے ہیں جبکہ خوف و ہراس کا عالم ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس پر حملے ہورہے ہیں۔دہلی کی صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی کہ دہلی ہائی کورٹ نے رات گئے جسٹس ایس مرلی دھر کے گھر پر ایک درخواست کی ہنگامی سماعت کی اور پولیس کو ایمبولینس اور زخمیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔

جواہر لال یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اروند کجریوال کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دہلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے پانی کی توپ کا استعمال کیا۔ہنگاموں کی کوریج کے دوران این ڈی ٹی وی کے رپورٹرز کو بھی مارا پیٹا گیا اور انہیں روک کر کہا گیا کہ اپنا ہندو ہونا ثابت کرو۔ اس موقع پر پولیس صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ادھر دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے فوج بلانے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کی صورتحال تشویشناک ہے۔یہ تمام صورتحال امریکی صدر کے دورہ دہلی کے دوران ہوئی۔ دہلی میں مسلمانوں پر بہیمانہ حملوں کے بعد حکمراں جماعت بی جے پی کا مکروہ اور بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے مزید نمایاں ہوگیا ہے۔

News Code 1898142

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 6 + 4 =