ایران کے ہمسایہ ممالک میں کورونا وائرس کی صورتحال/ حقائق کو چھپانے کی کوشش

ایران کے بعض ہمسایہ ممالک نے ایران میں کورونا وائرس کی موجودگی کے اعلان کے بعد ایسی رفتار اختیار کی کہ گویا ان کا ملک اس مہلک وائرس سے بالکل عاری ہے حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے بعض ہمسایہ ممالک نے ایران میں کورونا وائرس کی موجودگی کے اعلان کے بعد ایسی رفتار اختیار کی کہ گویا ان کا ملک اس مہلک وائرس سے بالکل عاری ہے حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کی موجودگی کے اعلان کے بعد ایران کے بعض ہمسایہ ممالک نے کورونا کے سلسلے میں اپنے ملکی حقائق کو چھپاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنی سرحدوں کو بند کرنے کا اعلان کردیا اور ایسا ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کا ملک کورونا وائرس سے بالکل عاری ہے اور ان کے ملک میں چین سے کوئی شخص داخل ہی نہیں ہوا۔حالانکہ پاکستان میں درجنوں افراد نجی طور پر اور مختلف ممالک کی ايئر لائنز کے ذریعہ پاکستان پہنچ چکے ہیں جن کے بارے میں حقائق کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔  کیا ایران کے ہمسایہ ممالک کورونا وائرس سے بالکل عاری ہیں؟

ترک اخبار ڈیلی صباح کے مطابق اگر چین کو کورونا وائرس کے منتقل ہونے  کا اصلی سبب قراردیں تو سن 2019 میں چین سے 4 لاکھ سے زائد چینی سیاح ترکی کا دورہ کرچکے ہیں۔ جبکہ رواں سال جنوری اور فروری کے مہینے میں 30 ہزار چینی سیاح ترکی کا سفر کرچکے ہیں جبکہ چین میں کورونا وائرس کا آغاز دسمبر کے مہینے میں ہوا ہے۔

ترکش ايئر لائنز نے جنوری کے اخر میں چین کے لئے اپنی پروازیں منسوخ کی ہیں۔ترک اخبار بنی شفق نے 29 جنوری کو اعلان کیا کہ ترک ايئر لائنز کا عملہ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے گلوز استعمال کررہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کورونا وائرس کے پھیلنے سے لیکر ایک ماہ تک ترکش ايئر لانز کی چین کے لئے پروازیں جاری رہی ہیں۔

ایران کے دیگر ہسایہ ممالک میں کورونا وائرس ایران میں اعلان سے پہلے موجود تھا، متحدہ عرب امارات میں پہلا اسلامی ملک ہے جس میں کورونا وائرس کا اعلان کیا گیا اور جہاں اب تک 18 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں لیکن اماراتی حکام اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

ادھر پاکستان ، بحرین ، افغانستان اور کویت میں بھی کورونا وائرس کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات ہیں لیکن حکام انھیں مشتبہ کیس قراردیکر حقائق چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ درجنوں پاکستانی طلباء ذاتی طور پر چین سے واپس وطن پہنچ چکے ہیں اور سی پیک اور دیگر پراجیکٹوں کی تکمیل کے سلسلے میں ہزاروں چینی پاکستان میں موجود ہیں اور جن کے بارے میں حقائق کو مخفی رکھا جارہا ہے۔ بہر حال  ایران کے تمام ہمسایہ ممالک میں کورونا وائرس موجود ہے جن ممالک کے چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور جن کی گذشتہ تین ماہ میں چين آمد و رفت جاری رہی ہے وہ کورونا وائرس سے محفوظ نہیں ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین میں متعدد پاکستانی طلباء کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے ہیں جن کا علاج جاری ہے جبکہ چین میں پاکستانی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی ہے اور چین میں موجود طلباء کے والدین نے پاکستانی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ ان کے پیاروں کو وطن لانے کی کوشش کرے لیکن پاکستانی حکومت نے والدین کی ایک بات بھی نہیں سنی۔ کئی پاکستانی طلباء چین سے نجی طور پر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ بہر حال ایران نے بر وقت اعلان کرکے کورونا وائر کا مقابلہ شروع کردیا ہے اور ایران میں کورونا میں مبتلا  کئی بیمار صحتیاب بھی ہوگئے ہیں جبکہ ایران نے کورونا وائرس کی تشخیص کی نئی کٹ بھی مقامی طور پر تیار کرلی ہے۔۔

News Code 1898099

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 15 =