اردوغان اور ٹرمپ کا روس سے بشار اسد کی حمایت ترک کرنے کا مطالبہ

دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ترک صدر اردوغان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے شام کے صدر بشار اسد کی حمایت ترک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کرے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے عالمی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ترک صدر اردوغان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے شام کے صدر بشار اسد کی حمایت ترک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس خطے میں دہشت گردی کے فروغ میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کرے۔ اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فون پر ترک صدر طیب اردوغان سے مشرق وسطیٰ بالخصوص شام میں کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں رہنماؤں نے شام کے صدر بشار اسد کی روس کی طرف سے حمایت پر تشویش کا اظہار کیا۔

اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے روس کو شام میں بشارالاسد کی حمایت کو ختم کرنا ہوگا جس کی ترک صدر طیب اردوغان نے بھی مکمل حمایت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے روس سے بھی رابطہ کرنے اور  شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی حمایت پر بھی اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ شام میں بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ، ترکی، سعودی عرب اور اسرائیل پر مشتمل اتحاد نے دہشت گردوں کے ذریعہ بڑی کوشش کی ۔ دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ ترکی میں قائم کئے گئے اور دہشت گردوں کو ترکی کی سرحد سے شام میں داخل کرنے کی تمام سہولیات فراہم کی گئیں اور دہشت گردوں کو پیشرفتہ ہتھیار بھی فراہم کئے گئے۔ لیکن دہشت گرد شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے میں ناکام ہوگئے اور داعش دہشت گرد ، النصرہ فرنٹ کا شام سے تقریبا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ترکی ، امریکہ ، سعودی عرب اور اسرائیل کے نامشروع اور ناجائز اتحاد میں بعد میں اختلافات پیدا ہوگئے اور ترکی نے اپنے ملک میں قائم دہشت گردوں کی تربیت کے بعض ان کیمپوں کو اپنے لئے خطرہ قراردیتے ہوئے بند کردیا جو امریکی سرپرستی میں قائم تھے اب بھی ترکی النصرہ فرٹ کی بھر پور مدد کررہا ہے۔

News Code 1897917

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 2 =