بھارتی مسلمان شاعر کو ایک کروڑ اور 4 لاکھ روپے کا نوٹس

بھارت میں اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے دسمبر 2019 میں بنائے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہندوستان بھر میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ بھارتی حکومت نے ایک مسلان شاعر کو مظاہروں میں شرکت اور اشعار پڑھنے پر ایک کروڑ اور 4 لاکھ روپے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے دسمبر 2019 میں بنائے گئے متنازع شہریت قانون کے خلاف ہندوستان بھر میں مظاہرے جاری ہیں اور کئی ریاستوں میں ان مظاہروں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ جبکہ بھارتی حکومت نے ایک مسلان شاعر کو مظاہروں میں شرکت اور اشعار پڑھنے پر ایک کروڑ روپے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ متنازع شہریت قانون کے تحت 31 دسمبر 2014 تک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی، بدھ اور جین مذہب کے افراد کو شہریت دی جائے گی جب کہ اس قانون کے تحت مسلمان شہریت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

مسلمانوں کو شہریت کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے خلاف ہی اس قانون کے خلاف بھرپور مظاہرے جاری ہیں اور جن ریاستوں میں اس قانون کے خلاف سب سے زیادہ مظاہرے ہو رہے ہیں ان میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش بھی ہے۔ اترپردیش کے کئی شہروں میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے مسلسل مظاہرے جاری ہیں جب کہ اسی ریاست کے شہر مرادآباد میں بھی گزشتہ ماہ 29 جنوری سے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔

مراد آباد میں جاری مظاہروں میں شرکت کرنے والے مسلمان شاعر اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما عمران پرتاپ گڑھی کو حکومت نے ایک کروڑ 4 لاکھ روپے جرمانے کا نوٹس بھجوادیا۔

بھارتی اخبار " انڈین ایکسپریس " کے مطابق  مرادآباد کے عیدگاہ علاقے میں 29 جنوری 2020 سے جاری مظاہروں میں شرکت کرنے پر عمران پرتاپ گڑھی کو ضلعی انتظامیہ نے ایک کروڑ 4 لاکھ روپے جرمانے کا نوٹس بھجوایا۔

رپورٹ کے مطابق عمران پرتاپ گڑھی کو بھجوائے گئے نوٹس میں انہیں کہا گیا ہے کہ ان کے کہنے پر ہی مظاہرین وہاں جمع ہوئے اور ان مظاہرین کی وجہ سے وہاں پر بھاری سکیورٹی تعینات کی گئی جس پر یومیہ لاکھوں پر خرچ آتا ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی کو بھجوائے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عیدگاہ کے مقام پر ایک ایسے وقت میں مظاہرے شروع کیے گئے جب کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور لوگوں کے ہجوم کے ملنے پر پابندی عائد ہے۔نوٹس میں عمران پرتاپ گڑھی کو کہا گیا ہے کہ ان کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ نے مظاہرے کی جگہ پر بھاری سکیورٹی تعینات کی جس پر یومیہ 13 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔

نوٹس میں کانگریس رہنما اور مسلمان شاعر کو کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایک کروڑ 4 لاکھ روپے 29 جنوری 2020 سے یومیہ کے حساب سے وصول کیے جا رہے ہیں۔

نوٹس میں عمران پرتاپ گڑھی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور سیکیورٹی کی مد میں ہونے والے اخراجات کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ کو یومیہ کے 13 لاکھ 42 ہزار روپے کے حساب سے ایک کروڑ 4 لاکھ روپے ادا کرے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کرنے والے یا مظاہرے میں شامل افراد سے خطاب کرنے والے کسی شخص پر جرمانہ عائد کیا گیا ہو۔بلکہ اس سے قبل بھی ریاست اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں کی مقامی حکومتوں نے مظاہروں کو روکنے کے لیے مظاہرین کو لاکھوں روپے جرمانے کو ںوٹس بھجوا رکھے ہیں۔

News Code 1897894

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 5 + 1 =