بھارت میں بارات احتجاجی مظآہرے میں بدل گئی

بھارت میں شہریت بل کیخلاف بارات احتجاجی مظاہرے میں بدل گئی ، دلہے کی جانب سے حق مہر میں شہریت ترمیمی بل کی کاپی دینے کا اعلان کیاگیاہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت میں شہریت بل کیخلاف بارات احتجاجی مظاہرے میں بدل گئی ، دلہے کی جانب سے حق مہر میں شہریت ترمیمی بل کی کاپی دینے کا اعلان کیاگیاہے۔

اطلاعات کے مطابق بی جے پی حکومت کی جانب سے متنازعہ شہریت کا قانون ان کاناپسندیدہ ترین اقدام بن گیا ہے جس کے خلاف بھارت بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس قانون کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مختلف انداز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔اس قانون کیخلاف بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک شخص نے اپنی شادی کو بھی احتجاجی مظاہرے میں بدل ڈالا اور اپنے منفرد احتجاج سے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔اونٹ پر سوار دلہے نے شہریت قانون کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے رکھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ میں دلہا اپنی شادی کے روز شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاجااونٹ پر بیٹھ کر بارات لایا اور اس نے ہاتھ میں بل کے خلاف ایک پوسٹر بھی اٹھا رکھا تھا نہ صرف دلہا نے بلکہ باراتیوں نے بھی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر انگریزی میں " شہریت متنازع قانون نا منظور"  لکھا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دلہا بارات لے کر 20 کلو میٹر دور سے اونٹ پر سوار ہو کر آیا تھا اور سارے راستے بارتیوں نے بھی پلے کارڈز اٹھائے رکھے ۔ بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دلہے نے کہا کہ اس نے یہ اقدام شہریت کے متنازع قانون کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے کیا ہے جبکہ وہ حق مہر کے ساتھ اپنی اہلیہ کو اس بل کی ایک کاپی بھی دینے والا ہے۔آخر میں دلہے نے بھی مودی سرکاری کی جانب سے نافذ متنازع قانون کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔

News Code 1897788

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 3 + 4 =