مہاراشٹرحکومت کا متنازع قانون کے خلاف قانونی راستہ اپنانے کا عندیہ

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے اپنی ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے متنازع قانون نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن (این پی آر) کے خلاف قانونی راستہ اپنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے بھارتی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے اپنی ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے متنازع قانون نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن (این پی آر) کے خلاف قانونی راستہ اپنانے کا عندیہ دے دیا۔  اطلاعات کے مطابق انیل دیشمکھ نے کہا کہ مہا وکاس آغاڈی حکومت ریاست میں این پی آر کے اطلاق کو غیر موثر بنانے کے لیے قانونی طریقوں پر غور کررہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ایک درجن سے زائد ریاستوں کے وزراء  اعلیٰ نے شہریت کے منتازع قانون این پی آر پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

شہریت (ترمیمی) قانون (این آر سی) کی مخالفت کی ملک گیر احتجاج کے پس منظر میں انیل دیشمکھ نے کہا کہ مہاراشٹر میں کسی کو بھی ان کی " شہریت " کی حیثیت سے ہراساں نہیں کیا جائے گا۔  انہوں نے مظاہرین سے دعویٰ کیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کردیں کیونکہ ریاست میں این پی آر اور این آر سی کا نفاذ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت کی 13 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے این پی آر کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کانگریس کے زیر اقتدار مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، پنجاب، پڈوچیری، جھاڑکھنڈ، مغربی بنگال اور کیرالہ میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہیں۔

News Code 1897717

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 14 =