ٹرمپ کی ثالثی قبول کرنے سے فلسطین جیسا حشر ہوگا

پاکستانی سینیٹ میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور خارجہ کےچیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کی ضرورت ہے، ٹرمپ کا منصوبہ گریٹر اسرائیل قائم کرنے کا ہے، اس کی ثالثی قبول نہ کریں ورنہ حشر فلسطین والا ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستانی سینیٹ میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور خارجہ کےچیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کی ضرورت ہے، ٹرمپ کا منصوبہ گریٹر اسرائیل قائم کرنے کا ہے، اس کی ثالثی قبول نہ کریں ورنہ حشر فلسطین والا ہوگا۔ لاہورمیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور خارجہ کےچیئرمین اور مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان علاقائی سیاست کا محور بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا نہیں بلکہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، ملائیشیا کانفرنس میں نہ جانا بڑی حماقت تھی مشاہد حسین سید نے کہا کہ مودی کی صرف گیدڑ بھبھکیاں ہیں، جنگ نہیں ہو گی،مودی فاش ازم اور کالونی ازم کی طرف بڑھ گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ آج قائد اعظم کی قیادت، کردار اور قوت ایمانی کی جیت نظر آتی ہے، اگر چین نہ ہوتا تو بھارت سلامتی کونسل کا مستقل رکن بن چکا ہوتا۔مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کو نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کی ضرورت ہے، ہم جتنا انحصارچین پر کرسکتے ہیں اور کسی ملک پر نہیں کرسکتے۔

News Code 1897490

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 9 + 4 =