بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت کا ایک کروڑ مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کا اعلان

بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال کے سربراہ دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پورے بھارت میں رجسٹریشن پالیسی پر عمل درآمد کرے گی جس کے بعد ایک کروڑ مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔

 مہر خبررساں ایجنسی نے ہم نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند حکمراں جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) مغربی بنگال کے سربراہ دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پورے بھارت میں رجسٹریشن پالیسی پر عمل درآمد کرے گی جس کے بعد ایک کروڑ مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اس نے الزام عائد کیا یہ مسلمان بھارت میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔دلیپ گھوش نے الزام عائد کیا کہ جو بھارتی متنازع شہریت کے بل کی مخالفت کررہے ہیں وہ بھارت کے خلاف ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم افراد حکومت کی جانب سے دو روپے کلو چاول کی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں لیکن ہم جلد انہیں واپس بھیجیں گے۔ بی جے پی رہنما نے الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیشی مسلمان مغربی بنگال میں جرائم میں بھی ملوث ہیں۔ ادھر متنازع شہریت قانون کے خلاف طلبہ اور مسلمانوں سمیت ہزاروں شہریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔بنگلہ دیش اور افغانستان نے بھی بھارت کے متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کردی۔

گلف نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں بنگلادیشی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس قانون سے بھارت میں رہنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا نیا شہریت کا قانون غیر ضروری ہے۔ بنگلہ دیشی رہنما کی جانب سے متنازع قانون کے سامنے آنے کے بعد یہ پہلا بیان سامنے آیا۔

ادھر سابق افغان صدر حامد کرزائی نے بھارتی اخبار دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہریت قانون جس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے اور تین ممالک کے ہندو، سکھ، جین، بدھ مت، مسیحی اور پارسیوں کو شہریت دینے کا کہا ہے، اسے سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقلیتوں کے تحفظ کے جذبات بھارت میں بھی نظر آئیں گے۔

News Code 1897272

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 4 + 1 =