بنگلہ دیشی حکومت کی بھارت کے نسل پرستانہ شہریت ترمیمی قانون پرشدید تنقید

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھی بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر مودی حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون میری سمجھ سے بالاتر ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ  بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھی بھارت کے متنازع شہریت ترمیمی قانون پر مودی حکومت پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون میری سمجھ سے بالاتر ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارت میں مودی سرکار کو  متنازع شہریت قانون پر اندورن ملک کےساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے بھی اس قانون پر خاموشی توڑ دی ہے۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ اس قانون سے شہریوں بالخصوص تارکین وطن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آخر اس لاحاصل قانون کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے مزید کہا کہ گو یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، اس قانون سے بیرون ملک سے بھارت جانے والوں کے ساتھ بھارت کے اندر بھی اقلیتوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ مودی حکومت کو اس اہم معاملے پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ متنازع شہریت ترمیمی قانون پر بنگلہ دیش کے 3 وفاقی وزراء نے بھارت کا دورہ منسوخ کردیا تھا اور اب پہلی بار وزیراعظم شیخ حسینہ نے براہ راست اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

News Code 1897159

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • 1 + 3 =